صدر مملکت آصف علی زرداری نے ماحولیاتی تبدیلیوں سے محفوظ، کم کاربن اور توانائی کے لحاظ سے خودکفیل پاکستان کی تعمیر کے لیے حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی ٹیکنالوجیز کے فروغ اور اپنانے کے لیے مکمل حمایت فراہم کرے گی جو زمین کو محفوظ بنانے اور بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔
بین الاقوامی یومِ صاف توانائی کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صاف، سستی اور پائیدار توانائی جامع ترقی، توانائی کے تحفظ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے عالمی چیلنج سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
صاف توانائی حکومت کی ترجیح
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے صاف توانائی کی جانب منتقلی کو اپنی ماحولیاتی اور ترقیاتی پالیسی کا مرکزی حصہ بنا دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کا ہدف
صدر مملکت نے کہا کہ اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی (UNFCCC) کے تحت پاکستان کی ذمہ داریوں کے مطابق، نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشنز 2025 میں یہ ہدف مقرر کیا گیا ہے کہ 2030 تک 30 فیصد گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی۔
کم کاربن ترقی کا عزم
انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشن اور قومی ماحولیاتی تبدیلی پالیسی کے تحت پاکستان کم کاربن ترقی کے راستے اختیار کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ماحول دوست اور پائیدار معیشت کی بنیاد رکھی جا سکے۔
ماحولیاتی تعلیم اور نوجوانوں کا کردار
دوسری جانب وزیرِ موسمیاتی تبدیلی کے ترجمان محمد سلیم شیخ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق تعلیم، آگاہی، ابلاغ اور نوجوانوں کی قیادت میں مہمات کو قومی ماحولیاتی پالیسی کے نفاذ کا بنیادی حصہ بنا رہا ہے۔
عوامی شعور اجاگر کرنے پر زور
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی ماحولیاتی تبدیلی پالیسی میں عوامی تعلیم اور آگاہی کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے تاکہ موسمیاتی خطرات سے متعلق وسیع پیمانے پر شعور اجاگر کیا جا سکے اور ملک کے قدرتی وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔













