معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت غیر ملکی قیدیوں کے متعلق ڈیٹا حاصل کرنے میں تقریبا ایک سال لگ گیا، جو ڈیٹا ملا تب تک وہ غیر متعلقہ ہوگیا۔
غیرمسلم اقلیتوں کی شادی اور طلاق کی رجسٹریشن کے طریقہ کار اور فیس سے متعلقہ معلومات ملتے ملتے بھی انکی شادی کی رجسٹریشن کے قوانین میں تبدیلی ہوگئی، یوں یہ معلومات مل تو گئیں، مگر غیرمتعلقہ ہوگئیں۔
یہ کہنا تھا صحافی محمد کامران کا جب انہیں معلومات تک رسائی کے قانون کے حوالے سے پوچھا گیا۔ یہ صرف ایک صحافی کی کہانی نہیں بلکہ بہت سے صحافیوں کے پاس ایسی درجنوں کہانیاں ہیں۔
صحافی محمد کامران کا مزید کہنا ہے کہ انہوں نے ابتدائی طور پر غیرملکی قیدیوں کے متعلق ریکارڈ جیل حکام اور دیگر ذرائع سے حاصل کرنے کی کوشش کی جو ناصرف ناکام ہوئی، بلکہ انہیں جیل پولیس کی جانب سے کال بھی موصول ہوئی کہ وہ غیر ملکی قیدیوں کا ڈیٹا کیوں لینے کی کوشش میں ہیں؟
جس پر انہوں نے محتاط رویہ اپنایا اور ایڈیٹر کی مشاورت سے معلومات تک رسائی کے قانون کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس کے بعد بھی انہیں کال موصول ہوئی، مگر انہوں نے کہا کہ پنجاب ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن کے تحت یہ انکا حق ہے کہ وہ معلومات حاصل کریں، اگر یہ معلومات اس قانون کے تحت اثتثنیٰ رکھتی ہیں تو وہ پنجاب انفارمیشن کمیشن سے رابطہ کریں۔
اس معلومات تک رسائی کے تحت دی گئی درخواست کے جواب میں انہیں غیر ملکی قیدیوں سے متعلق ڈیٹا موصول ہوگیا جس پر انہوں نے نیوز سٹوری کی۔
محمد کامران کی معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت خصوصی ضروریات کے حامل افراد کے لئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسی پر عملدرآمد کے حوالے سے ڈیٹا حاصل کیا اور اس ڈیٹا پر مبنی سٹوری دو ایوارڈز حاصل کر چکی ہے۔ جو معلومات بغیر معلومات تک رسائی کے حاصل کرنا تقریبا ناممکن تھیں۔
ملک اکمل بھی صحافی ہیں انکا کہنا ہے کہ ادارے اکثر وبیشر معلومات دینے میں تاخیر کرتے ہیں۔ جس سےاس قانون پر انکا بھروسہ کم ہوتا جاتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی سٹوری کے لئے پنجاب میں دستیاب آئل اور گھی کی کوالٹی سے متعلق ڈیٹا حاصل کر لیا ہے۔ جسکا ہر صفہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے تصدیق شدہ ہے۔
اگر وہ یہ ڈیٹا ذرائع سے حاصل کرتے تو سٹوری شائع ہونے کے بعد آئل اور گھی بنانے والے ادارے ان کے خلاف باآسانی عدالت سے رجوع کرسکتے تھے اور پیکا کے خلاف بھی کاروائی کا خدشہ تھا مگر معلومات تک رسائی کے قانون کی مدد سے حاصل ہونے والا ڈیٹا پر مبنی سٹوری میں تحفظ حاصل ہے۔
دنیا بھر میں صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، لیکن یہ ستون اسی وقت مضبوط رہ سکتا ہے، جب صحافیوں کے پاس معلومات تک براہِ راست اور شفاف رسائی ہو۔ تاکہ وہ اپنے فرائض زیادہ موٹر طریقے سے سرانجام دے سکیں۔
پاکستان میں معلومات تک رسائی کا قانون اسی مقصد کے تحت متعارف کرایا گیا تھا تاکہ شہریوں کو معلومات تک رسائی حاصل ہو اور وہ حکومت کی کارکردگی سمیت دیگر امور میں شفافیت کا مشاہدہ کر سکیں۔
آر ٹی آئی قانون ایک ایسا قانونی فریم ورک ہے جو شہریوں کو سرکاری اداروں سے معلومات حاصل کرنے کا بنیادی حق فراہم کرتا ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک میں رائج یہ قانون شفافیت، جوابدہی اور بہتر طرزِ حکمرانی کو فروغ دینے کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔
پاکستان میں بھی وفاق اور صوبائی سطح پر آر ٹی آئی قوانین موجود ہیں، جن کے تحت کوئی بھی شہری مقررہ طریقہ کار کے ذریعے سرکاری محکموں سے معلومات طلب کرسکتا ہے اور ادارے ایک مخصوص مدت کے اندر ان درخواستوں کا جواب دینے کے پابند ہوتے ہیں۔
یہ نظام نہ صرف عوام کو بااختیار بناتا ہے بلکہ حکومتی کارکردگی میں بہتری اور کرپشن کے خاتمے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ لیکن کیا یہ قانون صرف کاغذی حد تک موجود ہے یا حقیقت میں بھی صحافیوں کے لیے ڈھال کا کردار ادا کرتا ہے؟ اس سوال کا جواب مختلف ماہرین، صحافیوں اور سابقہ انفارمیشن کمشنرز کی رائے سے ملتا ہے۔
عمر چیمہ: ’سرکاری ریکارڈ، پروفیشنل صحافت کی ضمانت‘
پاکستان میں تحقیقی صحافت کی علامت سمجھے جانے والے عمر چیمہ کے نزدیک آر ٹی آئی کی سب سے بڑی افادیت صحافیوں کے لیے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر صحافی کے پاس مصدقہ معلومات نہ ہوں تو اس کی خبر کمزور ہو جاتی ہے اور مخالفین اسے غیر معتبر ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
عمر چیمہ کے مطابق، سرکاری ریکارڈ پر مبنی معلومات عوام کے اعتماد کو بڑھاتی ہیں اور حکومت پر دباؤ ڈالتی ہیں کہ وہ درست اقدامات کرے۔ ’اکثر اوقات حکام یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ میڈیا میں آنے والی خبریں محض الزامات ہیں، لیکن جب انہی کے ریکارڈ سے معلومات سامنے آتی ہیں تو ان کے لیے انکار ممکن نہیں رہتا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون خبر کو گھڑی ہوئی بات کے بجائے مستند اور قابلِ یقین بنا دیتا ہے، جس سے رپورٹنگ کا معیار بلند ہوتا ہے اور صحافی کو زیادہ تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
احمد مختار: ’وسائل کی کمی اور غیر سنجیدہ تعیناتیاں بڑی رکاوٹیں‘
2013 میں پنجاب میں پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن کا قانون پاس ہوا۔ جبکہ اگلے سال پہلے چیف انفارمیشن کمشنر کا تقرر ہوسکا۔ پنجاب کے سابقہ چیف انفارمیشن کمشنر احمد مختار نے مئی 2014 سے اپریل 2017 تک پہلے انفارمیشن کمشنر کے طور پر خدمات دی۔
انہوں نے خصوصی گفتگو میں معلومات تک رسائی کے قوانین کے نفاذ میں کئی بنیادی رکاوٹوں کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق شروع میں پنجاب انفارمیشن کمیشن کو وسائل کی شدید کمی کا سامنا رہا۔ نہ دفتر تھا، نہ اسٹاف، نہ ہی مناسب بجٹ۔ اس کے علاوہ، اکثر کمشنرز کی مدت ختم ہو جانے کے بعد بروقت نئی تعیناتیاں نہیں کی جاتیں، جس سے کام رک جاتا ہے۔
احمد مختار کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ تعیناتیاں کرتے وقت یہ نہیں دیکھا جاتا کہ آیا امیدوار واقعی اس قانون کی روح کو سمجھتا ہے یا نہیں۔ بعض اوقات ایسے افراد کو یہ عہدہ دے دیا جاتا ہے جو ذاتی تعصبات یا سابقہ تجربات کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں، حالانکہ کمشنر کا کام صرف اور صرف قانون کی منشا پر عمل درآمد کروانا ہے۔
انہوں نے عدلیہ کے رویے پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق کئی مرتبہ عدالتیں کمیشن کے فیصلوں کو رجعتی انداز میں دیکھتی ہیں اور اسٹیٹس کو کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ ’قانون کی روح یہ ہے کہ شہری آسانی سے معلومات حاصل کر سکے، لیکن جب معاملہ عدالت میں جاتا ہے تو اکثر برسوں تک کیس لٹکا رہتا ہے۔‘
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کمیشن اپنے اختیارات، جیسے جرمانے اور سزا کے احکامات، بھرپور انداز میں استعمال کرے تو نفاذ میں بہتری آ سکتی ہے، لیکن فی الحال صورتحال مثالی نہیں ہے۔
قدیر احمد: ’کمیشن کا سہارا اور صحافیوں کے لیے تربیتی پروگرام‘
پنجاب انفارمیشن کمیشن کے رجسٹرار قدیر احمد نے صحافیوں کے لیے آر ٹی آئی کے فوائد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون انہیں براہِ راست سرکاری محکموں اور افسران سے معلومات لینے کی طاقت دیتا ہے۔ ان کے مطابق، اس سے صحافی عوامی فنڈز کے استعمال، ترقیاتی منصوبوں اور حکومتی فیصلوں پر درست اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب انفارمیشن کمیشن باقاعدگی سے ٹریننگ اور آگاہی پروگرام منعقد کرتا رہا ہے تاکہ صحافی قانون کے استعمال کا طریقہ، درخواست کا عمل اور اپنے حقوق بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
قدیر احمد نے مزید وضاحت کی کہ اگر کسی صحافی کو پبلک انفارمیشن آفیسر معلومات فراہم نہ کرے تو وہ کمیشن میں شکایت درج کر سکتا ہے۔ کمیشن نہ صرف تحقیقات کرتا ہے بلکہ قصوروار افسر پر جرمانہ عائد کرنے اور محکمہ کو معلومات فراہم کرنے کا حکم دینے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔
اس وقت پنجاب انفارمیشن کمیشن کا پینل مکمل ہے، تینوں سیٹوں پر افسران تعینات ہیں۔
فیصل منظور: ’مصدقہ معلومات، شفاف رپورٹنگ اور تحفظ‘
سنٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشیٹوز کے پروگرام منیجر فیصل منظور کے مطابق آر ٹی آئی قانون کو صحافیوں کے لیے ایک ’موثر قانونی ہتھیار‘ کہا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق، اس قانون کے ذریعے صحافی براہِ راست سرکاری دفاتر کے ریکارڈ تک رسائی حاصل کرتے ہیں، جس سے وہ تحقیقاتی رپورٹنگ کو مستند، شفاف اور نتیجہ خیز بنا سکتے ہیں۔
فیصل منظور کا ماننا ہے کہ یہ قانون صحافیوں کو بے بنیاد الزامات اور دھمکیوں سے بھی بچاتا ہے، کیونکہ جب رپورٹ مستند سرکاری ریکارڈ پر مبنی ہو تو کسی بھی فریق کے لیے اس کی تردید آسان نہیں رہتی۔
تاہم وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ بعض اوقات صحافیوں کو خطرات کا سامنا ہوتا ہے، خاص طور پر جب وہ بااثر شخصیات، اربابِ اختیار یا بڑے سرکاری منصوبوں سے متعلق معلومات مانگتے ہیں۔
وہ مشورہ دیتے ہیں کہ صحافیوں کو چاہیے کہ اس قانون کے بارے میں مکمل جانکاری حاصل کریں، اپنی درخواستوں اور موصولہ ریکارڈ کو محفوظ رکھیں اور حساس موضوعات پر اکیلے کام کرنے کے بجائے گروپ کی شکل میں یا قابل اعتماد ساتھیوں کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ دباؤ یا خطرے کی صورت میں انہیں سپورٹ مل سکے۔
پنجاب انفارمیشن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود ڈیٹا کے مطابق اب تک پنجاب انفارمیشن کمیشن نے اکیس پبلک باڈی کے نمائندگان کو جرمانہ یا سزا کا حکم جاری کیا ہے۔ جنہوں نے معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت معلومات فراہم نہیں کیں۔
اگر پنجاب افارمیشن کمیشن کی ویب پر موجود کمپلینٹس سے متعلقہ ڈیٹا دیکھیں تو الگ ہی منظر ملتا ہے گو کہ یہ ڈیٹا کئی سال پرانا ہے۔ اسکے مطابق شکایات کے اعداد و شمار سال 2015 سے 2018 تک موصول ہونے والی تمام شکایات کا بروقت ازالہ کیا گیا۔
سال 2015 میں کل 525 شکایات موصول ہوئیں جنہیں مکمل طور پر نمٹا دیا گیا۔ اسی طرح 2016 میں 1055، 2017 میں 1036 اور 2018 میں 764 شکایات موصول ہوئیں اور تمام شکایات کو بند کر دیا گیا۔ ان چاروں برسوں کے دوران کوئی بھی شکایت زیرِ التواء نہیں رہی۔
معلومات تک رسائی کا قانون صحافیوں کے لیے ایک طاقتور ذریعہ ہے، جو انہیں جھوٹے الزامات سے محفوظ رکھتے ہوئے زیادہ پیشہ ورانہ اور مؤثر رپورٹنگ کا موقع دیتا ہے۔ تاہم اس قانون کے نفاذ میں رکاوٹیں، کمشنرز کی غیر سنجیدہ تعیناتیاں، عدالتی پیچیدگیاں اور آگاہی کی کمی اس کے اثر کو کم کر دیتی ہیں۔
صحافیوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اس قانون کو نہ صرف استعمال کریں بلکہ اس کے طریقہ کار سے بخوبی واقف ہوں۔ انہیں چاہیے کہ اپنی درخواستوں اور حاصل شدہ معلومات کا ریکارڈ محفوظ رکھیں، حساس موضوعات پر ٹیم ورک کریں اور ہمیشہ قانونی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے آگے بڑھیں۔
آر ٹی آئی کا مؤثر استعمال نہ صرف صحافت کو مضبوط کرے گا بلکہ معاشرے میں شفافیت، احتساب اور جمہوری اقدار کو بھی فروغ دے گا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














