وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گل پلازہ سانحہ کے متاثرین کو 2 ماہ کے اندر دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے متاثرین کی ہرممکن مدد کی جائےگی، جبکہ گل پلازہ کی جگہ پر نئی عمارت بھی تعمیر کریں گے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ جاں بحق افراد کے ورثا کو فی کس ایک ایک کروڑ روپے دے گی، جبکہ ہر تاجر کو ابتدائی طور پر 5 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ 2 ماہ تک اپنے گھروں کا گزارا کر سکیں۔
مزید پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی، عمارت کے ملبے سے 70 تولہ سونا برآمد، مالک کے حوالے کردیا گیا
انہوں نے کہاکہ کراچی چیمبر کے ساتھ مل کر کاروباری نقصان اور دکانوں میں پڑا سامان بحال کیا جائے گا۔
مراد علی شاہ نے واضح کیاکہ 2 ماہ کے اندر دکانیں تیار کردی جائیں گی تاکہ دکاندار دوبارہ کاروبار شروع کر سکیں۔ سندھ انویسٹمنٹ ڈپارٹمنٹ کے ذریعے ہر دکان کو ایک کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے اور قرض پر سود بھی حکومت سندھ ادا کرے گی۔
انہوں نے کہاکہ نئے گل پلازہ کی تعمیر میں دکانوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا اور دکانداروں کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی عمارت کو دوبارہ کھڑا کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے گل پلازہ واقعے کے مقدمے کی تفصیلات بھی بتائیں اور کہاکہ اس سانحے میں 80 سے زیادہ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
انہوں نے ذمہ داروں کو سزا دینے کا عزم ظاہر کیا اور تسلیم کیا کہ حکومت کی اپنی کوتاہیاں بھی تھیں۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ اس حادثے کے بعد دیگر صوبوں میں بھی بلڈنگ آڈٹ کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ ہر بلڈنگ کا مکمل سروے کیا جائے گا اور جو انتظامات نہیں کرے گا اسے سیل کر دیا جائے گا۔ اس طرح کے سانحات کو دوبارہ ہونے سے روکنا سب کی ذمہ داری ہے۔
مزید پڑھیں: گل پلازہ کی عمارت سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ جاری، اہم انکشافات سامنے آگئے
اسی دوران وزیراعلیٰ سندھ نے شہر کے انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر بھی بات کی اور بتایا کہ عید کے بعد شاہراہ بھٹو کو ایم 9 تک کھول دیا جائے گا، جس میں چند ماہ کی تاخیر ہوئی ہے، تاہم اس سے روزانہ 50 ہزار افراد کے ٹریفک کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی۔














