گل پلازہ واقعے کی ایف آئی آر 23 جنوری 2026 کودرج کی گئی تھی۔ اس کے بعد اس ایف آئی آر کو سیل کردیا تھا جس کی وجہ سے مقدمہ کی صرف اتنی ہی تفصیل سامنے آسکی تھی کہ گل پلازہ سانحہ پر مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ سندھ نے کورنگی کازوے پل کا افتتاح کردیا، گل پلازہ کے متاثرین کے لیے امدادی اقدامات کا اعلان
درج مقدمہ کے مطابق آگ لگنےکا وقت 17 جنوری رات 10 بجکر 15 منٹ لکھا گیا ہے، سرکاری مدعیت میں درج ایف آئی آرمیں قتل خطا سمیت دیگر دفعات شامل ہیں۔
گل پلازہ آتش زدگی، سرکار کی مدعیت میں FIR درج:
گل پلازہ کی ایف آئی آر 23 جنوری کو درج کی گئی، ایف آئی آر کو سیل کردیا تھا جس کی وجہ سے مقدمہ کی صرف اتنی ہی تفصیل سامنے آسکی تھی کہ مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا۔@AmirSaeedAbbasi @KulAalam #GulPlazaFire pic.twitter.com/eu7XkdgRka— Media Talk (@mediatalk922) January 26, 2026
مدعی مقدمہ ایس ایچ او انسپکٹر نواز علی زرداری کےمطابق وہ گشت پر تھے اور ساڑھے 10 بجےآگ کی اطلاع ملی، جب وہ موقع پر پہنچے تو آگ شدید تھی جبکہ عمارت میں لوگ پھنسے ہوئے تھے۔
مزید پڑھیں: گل پلازہ سانحہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دیں گے، وزیراعلیٰ سندھ کا اعلان
مدعی مقدمہ کے مطابق آگ گفٹ اینڈ فلاور شاپ میں لگی جس نے پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ گل پلازہ میں آگ بجھانے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے انتظامات نہیں تھے، عمارت کے کئی دروازے بند تھے، ایمرجنسی ایگزٹ بھی نہیں تھا، بجلی منقطع ہو گئی تھی جس سے لوگوں کو باہر نکلنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔














