امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن ائیر کرافٹ کیریئر سمیت متعدد جنگی جہازوں پر مشتمل امریکی بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ میں پہنچ چکا ہے۔
امریکی فوج کے مطابق اس تعیناتی سے خطے میں امریکی عسکری موجودگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: مظاہروں کے دوران امریکا ایران کیخلاف فوجی اقدامات پر غور کررہا ہے، سی این این کا دعویٰ
امریکی بحری بیڑے کی یہ تعیناتی ایسے وقت ہوئی ہے جب ایران میں بڑے احتجاجی مظاہروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے بعد امریکا اور ایران کے تعلقات کشیدگی کی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
اگرچہ بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے پیچھے ہٹنے کا عندیہ دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ تمام آپشنز اب بھی کھلے ہیں۔
Sailors aboard USS Abraham Lincoln (CVN 72) perform routine maintenance as the aircraft carrier sails in the Indian Ocean, Jan. 26. The Abraham Lincoln Carrier Strike Group is currently deployed to the Middle East to promote regional security and stability. pic.twitter.com/dkuN946hce
— U.S. Central Command (@CENTCOM) January 26, 2026
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہاکہ یہ بحری بیڑا علاقائی سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے مقصد کے تحت مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کسی بھی بیرونی مداخلت کے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ رکھتا ہے۔
انہوں نے یو ایس ایس ابراہم لنکن کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس قسم کے جنگی جہاز کی موجودگی ایران کے عزم یا عوام کے دفاع کے عزم کو متاثر نہیں کرے گی۔
ادھر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دےگا۔
واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ برس ایران میں بمباری کرنے کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ تہران کی ایٹمی صلاحیت ختم کردی ہے۔














