خیبر پختونخوا میں اپوزیشن لیڈر اور ن لیگ کے رہنما ڈاکٹر عباداللہ نے واضح کیا کہ قبائلی علاقہ تیراہ سے مقامی افراد کے انخلا کے لیے کمیٹی سے معاہدہ ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر نے کیا تھا، جبکہ اب پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اس پر سیاست کر رہی ہے۔
پشاور میں وی نیوز سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے دہشتگردی سے متاثرہ علاقے وادی تیراہ کی صورتحال پر بات کی اور قبائلی علاقہ وادی تیراہ کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار پی ٹی آئی حکومت کو قرار دیا۔
مزید پڑھیں: وادی تیراہ میں آپریشن کی اجازت کس نے دی، اور سہیل آفریدی کو قتل کی دھمکیوں میں کتنی حقیقت ہے؟
انہوں نے الزام لگایا کہ دہشتگردوں کو لانے والی جماعت بھی پاکستان تحریک انصاف ہے، اور اسی جماعت کے سربراہ عمران خان نے دہشتگردوں کو سہولیات اور دفاتر دینے کا بھی اعلان کیا تھا۔ جبکہ اب یہی جماعت تیراہ کے معصوم لوگوں کے نام پر سیاست کر رہی ہے۔ لاشوں اور زخمیوں پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، مگر یہ لوگ ان پر بھی سیاست کر رہے ہیں اور بیانیہ بنا رہے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ سہیل آفریدی اپوزیشن کی مخالفت کرتے ہوئے دہشتگردوں کے خلاف شواہد مانگ رہے ہیں، جبکہ آپریشن کا فیصلہ اپیکس کمیٹی نے کیا تھا جس میں وزیراعلیٰ موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کی پاکستان میں داخلے اور تشکیل پر آئی جی نے مکمل بریفنگ دی تھی، جس میں سہیل آفریدی خود موجود تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرا سوال ہے اگر آپ آپریشن کی مخالفت کر رہے ہیں تو آپ کے پاس اس کا متبادل حل کیا ہے؟ ان کے پاس کوئی حل نہیں، بس ہر معاملے پر بیانیہ بنانے کے علاوہ۔
تیراہ انخلا پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انخلا مقامی کمیٹی سے مذاکرات اور معاہدے کے بعد شروع ہوا، جو ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر نے کیا ہے۔ آپ بتائیں کہ ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر کس کے ماتحت ہے، کس کو جواب دہ ہے اور معاہدہ کس کے کہنے پر کیا گیا ہے؟
عباداللہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے ناک کے نیچے ڈپٹی کمشنر معاہدہ کرتا ہے، اور یا تو وزیراعلیٰ کی بات نہیں سنتا یا وزیراعلیٰ کو علم ہی نہیں ہوتا۔ اگر وزیراعلیٰ کو علم نہیں تھا اور ڈی سی نے خود سے معاہدہ کیا ہے تو کیا وزیر اعلیٰ کو مستعفی نہیں ہو جانا چاہیے؟
مزید پڑھیں: تیراہ میں بے امنی اور دہشتگردوں کی موجودگی کی وجہ سے لوگ نقل مکانی کررہے ہیں، احسن اقبال
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی جھوٹ بول رہی ہے اور اس مشکل وقت میں بھی سیاست اور بیانیہ سازی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2 دہائیوں سے زائد عرصے سے پشتون قوم متاثر ہو رہی ہے، اور اس پر بھی ظلم ہو رہا ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ فین کلب ہے، اور یہ لوگ عمران خان کے فین کلب کے ممبران ہیں، جو ایک شخص کے لیے سب کچھ داؤ پر لگانے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کرسی کے لیے لاشوں، خون اور جنازوں پر بھی سیاست کر رہے ہیں۔
عباد اللہ نے کہا کہ صوبائی امن جرگے میں سیاسی جماعتیں دہشتگردی کے خاتمے پر متفق ہو گئی تھیں، تاہم سہیل آفریدی اس معاملے کو سیاست کے لیے غلط رنگ دے رہے ہیں اور یہ تاثر دے رہے ہیں کہ سیاسی جماعتوں نے آپریشن کی مخالفت کی تھی، حالانکہ جرگے کے 15 نکاتی اعلامیے میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے تمام آئینی وسائل استعمال کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ یہ سب کچھ کرسی بچانے کے لیے ہو رہا ہے۔ اندر ایک بات ہوتی ہے اور باہر بیانیہ بنانے کے لیے دوسری بات کی جاتی ہے۔
مزید اس ویڈیو میں ۔ ۔ ۔













