فرانس کی قومی اسمبلی نے پیر کے روز ایک ایسا بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ بل کے حق میں 116 جبکہ مخالفت میں 23 ووٹ پڑے۔
منظور شدہ قانون سازی اب پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا سینیٹ کو بھیجی جائے گی۔ صدر ایمانوئل میکرون نے اس پابندی کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم فرانسیسی بچوں اور نوجوانوں کو ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیے: آسٹریلیا نابالغ بچوں پر سوشل میڈیا پابندی لگانے والا پہلا ملک بن گیا
صدر میکرون نے ووٹنگ کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں اسے ‘ایک بڑا قدم’ قرار دیا اور کہا کہ ‘ہمارے بچوں کے دماغ فروخت کے لیے نہیں ہیں، نہ امریکی پلیٹ فارمز کو اور نہ ہی چینی نیٹ ورکس کو۔’
بل کی اہم شقیں
بل کے مسودے کے مطابق 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل نیٹ ورکس اور بڑی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں موجود سوشل نیٹ ورکنگ فیچرز پر پابندی عائد کی جائے گی۔ تاہم آن لائن انسائیکلوپیڈیاز اور تعلیمی پلیٹ فارمز کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
قانون کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو مؤثر عمر کی تصدیق کے نظام متعارف کرانا ہوں گے تاکہ کم عمر بچوں کی رسائی روکی جا سکے۔ اس کے علاوہ جونیئر اسکولوں میں اسمارٹ فون پر موجودہ پابندی کو بڑھا کر ہائی اسکولوں تک بھی نافذ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: ملائیشیا میں 16 سال سے کم عمر بچے سوشل میڈیا استعمال نہیں کر سکیں گے
حکام کا کہنا ہے کہ نئے اکاؤنٹس کے لیے یہ اقدامات 2026 کے تعلیمی سال کے آغاز سے نافذ کیے جائیں گے۔
پابندی کی وجہ کیا ہے؟
فرانس، آسٹریلیا کے بعد دوسرا ملک ہوگا جہاں کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال کے باعث بچوں کی ذہنی نشوونما، ذہنی صحت اور ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم پر شدید خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز نوعمر بچوں، خاص طور پر لڑکیوں، پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ ان خطرات میں سائبر بُلنگ اور پرتشدد مواد تک رسائی شامل ہے۔
عوامی حمایت
ملک میں اس قانون کی وسیع حمایت دیکھی جا رہی ہے۔ 2024 میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق 73 فیصد عوام 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے حق میں ہیں۔
بل پیش کرنے والی سینٹرسٹ رکنِ پارلیمنٹ لاورے کا کہنا تھا کہ اس قانون کے ذریعے ہم معاشرے میں ایک واضح حد مقرر کر رہے ہیں اور یہ پیغام دے رہے ہیں کہ سوشل میڈیا بے ضرر نہیں۔ ہمارے بچے کم پڑھ رہے ہیں، کم سو رہے ہیں اور ایک دوسرے سے زیادہ موازنہ کر رہے ہیں۔ یہ آزاد ذہنوں کی جنگ ہے۔’














