مثبت آغاز کے بعد منگل کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں انڈیکس میں تقریباً 600 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی ہے۔
دوپہر 12 بجے کے وقت بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 188,001.04 پوائنٹس پر موجود تھا، جو 586.62 پوائنٹس یعنی 0.31 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روپے کی قدر میں مضبوطی، پاکستانی معیشت کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟
اہم شعبوں میں فروخت کا رجحان غالب رہا، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، فرٹیلائزر، تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز)، بجلی پیدا کرنے والے ادارے اور ریفائنریز شامل ہیں۔
وافی، اٹک ریفائنری، حبکو، او جی ڈی سی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، ماری انرجیز اور پاکستان اسٹیٹ آئل سمیت انڈیکس پر بھاری وزن رکھنے والے شیئرز ریڈ زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
Market is down at midday 👇
⏳ KSE 100 is negative by -543.05 points (-0.29%) at midday trading. Index is at 188,044.61 and volume so far is 141.76 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/ZHzKzg7UNh— Investify Pakistan (@investifypk) January 27, 2026
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے گزشتہ روز، مارکیٹ توقعات کے برعکس، 2026 کی پہلی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔
پیر کے روز اسٹاک ایکسچینج میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جہاں بینچ مارک انڈیکس ریکارڈ سطحوں سے واپس آیا۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے قبل بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں نے منافع سمیٹنے کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: یو بی ایل سب سے بڑی لسٹڈ کمپنی بن گئی، اسٹاک ایکسچینج 186000 پوائنٹس کی نئی بلندی پر
کے ایس ای 100 انڈیکس 579.17 پوائنٹس یعنی 0.31 فیصد کی کمی کے ساتھ 188,587.66 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر منگل کے روز ایشیائی حصص میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں سرمایہ کاروں کو امریکی میگا کیپ کمپنیوں کی آمدنی رپورٹس سے امیدیں وابستہ تھیں۔
تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی کوریا پر حالیہ ٹیرف اقدامات نے غیر یقینی صورتحال پیدا کی، جس کے باعث مجموعی منافع محدود رہا، جبکہ سونا اور چاندی مضبوط ہو گئے۔

مارکیٹ نے اس خبر کو نسبتاً سکون سے لیا، اور نیسڈیک فیوچرز میں 0.2 فیصد اضافہ ہوا، کیونکہ سرمایہ کار بدھ سے مائیکروسافٹ، ایپل اور ٹیسلا سمیت نام نہاد ’میگنیفیسنٹ 7‘ کمپنیوں کی آمدنی کی رپورٹس کے منتظر ہیں۔
جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس ابتدائی نقصانات سے سنبھلتے ہوئے آخرکار 0.8 فیصد اضافے پر آ گیا۔
محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے سونے کی قیمت میں 1 فیصد اضافہ ہو کر 5,066 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جو اپنی تاریخی بلند ترین سطح 5,110 ڈالر سے کچھ ہی کم ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج: سرمایہ کاروں کی تعداد میں 41 فیصد اضافہ
دوسری جانب چاندی 6.4 فیصد اضافے کے ساتھ 110.60 ڈالر فی اونس تک جا پہنچی، جو پیر کے روز قائم ہونے والے 117.70 ڈالر کے ریکارڈ کے قریب ہے۔
ایشیا میں، جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک شیئرز پر مشتمل ایم ایس سی آئی کا وسیع انڈیکس 0.4 فیصد بڑھا۔
جاپان کا نکی انڈیکس 0.1 فیصد کم رہا، جس کی وجہ ین کی حالیہ تیز مضبوطی ہے، جس نے جاپان کے بڑے برآمدی شعبے کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔














