اقوامِ متحدہ نے منگل کو غزہ میں بچوں کو اسکول واپس لانے کے لیے ایک بڑے ہنگامی تعلیمی منصوبے کا اعلان کیا۔ یونیسیف کے مطابق اکتوبر 2023 میں اسرائیل کے حملوں کے بعد غزہ کے قریباً 90 فیصد اسکول تباہ ہو گئے اور 7 لاکھ سے زائد اسکول جانے والے بچے تعلیم سے محروم ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کے ایس ریلیف‘ کی غزہ میں امدادی سرگرمیاں جاری، طلبہ میں گرم ملبوسات تقسیم
یونیسیف کا ہدف ہے کہ 2026 کے آخر تک 3 لاکھ 36 ہزار بچوں کو اسکول میں دوبارہ شامل کیا جائے اور 2027 تک تمام اسکول عمر بچوں کی تعلیم بحال کی جائے۔ اس منصوبے میں فلسطینی وزارتِ تعلیم اور اقوامِ متحدہ کے ادارے UNRWA کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے۔
یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے کہا کہ تعلیم ایک ایمرجنسی ہے، صرف ایک سہولت نہیں اور یہ اسکول بچوں کے لیے محفوظ جگہیں فراہم کرتے ہیں، جہاں صحت، غذائیت اور حفظانِ صحت کی خدمات بھی دستیاب ہیں۔
مزید پڑھیں: جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد، غزہ میں موجود آخری اسرائیلی یرغمالی کی لاش برآمد
اس کے علاوہ، یونیسیف نے 4,400 سے زائد تفریحی کٹس اور 240 اسکول ان اے کارٹن کٹس غزہ میں پہنچا دی ہیں، اور توقع ہے کہ آئندہ ہفتے تک یہ تعداد 11 ہزار سے تجاوز کر جائے گی۔













