پنجاب اسمبلی کا آج کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ کی زیر صدارت شروع ہوا جس کا ایجنڈا متعدد اہم امور پر مشتمل تھا جن میں دیہی علاقوں میں انفراسٹرکچر کی بہتری، لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سے متعلق سوالات، اور پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ترمیمی بل 2025 کی منظوری شامل تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اثاثہ جات کے گوشوارے جمع نہ کرانے پر صوبائی وزیر رانا سکندر سمیت پنجاب اسمبلی کے 50 ارکان کی رکنیت معطل
اجلاس کے دوران وقفہ سوالات کا سلسلہ شروع ہوا جہاں لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سے متعلق سوالات کی باری آئی۔ پارلیمانی سیکریٹری خرم ورک نے سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی تاہم محکمے کے سیکرٹری اور اسپیشل سیکرٹری کی ایوان میں عدم موجودگی نے صورتحال کو کشیدہ بنا دیا۔ ڈپٹی اسپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے اس پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور طنزیہ طور پر کہا کہ آپ کے سیکریٹری کے پیروں میں مہندی لگی ہے کیا جو وہ ایوان میں نہیں آئے؟ یہاں کروڑوں کا بجٹ لگا ہے معزز ممبران بیٹھے ہیں، کیا آپ کے سیکرٹری ان سے اوپر ہیں؟
ڈپٹی اسپیکر نے سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کو فوری طور پر ایوان میں طلب کرنے کی ہدایت دی اور اجلاس کو آدھے گھنٹے کے لیے ملتوی کر دیا۔
تاہم معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ اجلاس دوبارہ شروع ہونے کے بعد ڈپٹی اسپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے بہاولپور کی صورتحال پر پارلیمانی سیکریٹری پر شدید تنقید کی اور برس پڑے۔
انہوں نے کہا کہ کیا بہاولپور آپ کے صوبے میں نہیں آتا؟ بہاولپور سٹی اس وقت پانی میں ڈوبا ہوا ہے، آپ کو پتا بھی ہے؟
مزید پڑھیے: پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 167 سے ن لیگی امیدوار بلامقابلہ منتخب
انہوں نے کہا کہ اس ایوان میں کھڑے ہو کر آپ کے وزیر نے 3 بار کہا کہ اگلے مہینے بہاولپور کا ٹینڈر ہو جائے گا۔ ہم جا کر بہاولپور کو بتاتے ہیں لیکن بات پھر آئی گئی ہو جاتی ہے۔ نا آپ کبھی ایک بار بہاولپور آئے، نا وزیر آئے نا ہی کبھی آپ کے سیکرٹری آئے۔ بہاولپور کا نوجوان ہمارے گلے پکڑتا ہے کہ آپ بہاولپور کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ بہاولپور کی گلیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، نالیاں ابل رہی ہیں، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔
اجلاس میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ترقیاتی منصوبوں سے متعلق سوالات کے دوران حکومتی رکن امجد علی جاوید نے مبینہ کرپشن کے سنگین الزامات عائد کیے۔ ان الزامات کو ڈپٹی سپیکر نے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا ۔
مزید پڑھیں: دہشتگردی کے خلاف افغان علما کا فتویٰ مثبت پیشرفت مگر اصل سوال عملدرآمد کا ہے، نسیم زہرہ
اراکین اسمبلی نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ محکمہ جاتی افسران کی عدم موجودگی اور علاقائی مسائل کی عدم توجہی اسمبلی کی توہین کے مترادف ہے۔ پنجاب اسمبلی کی طرف سے محکمے کے افسران کو آئندہ اجلاسوں میں حاضر رہنے اور علاقائی مسائل حل کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔














