مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکی بحری بیڑے کی آبنائے ہرمز آمد اور ایران کے فوری ردعمل نے خطے کے سیاسی اور فوجی توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ایران نے 3 روزہ فوجی مشقوں کا اعلان کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے قریب اپنی فضائی حدود 25,000 فٹ کی بلندی تک بند کر دی ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی جہاز ایرانی سمندری حدود میں داخل ہوئے تو ان پر حملہ کیا جائے گا۔ ادھر سعودی عرب نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے اپنی فضائی حدود یا سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، جس سے اس کشیدہ صورتحال میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں۔
TRUMP: ‘There's another beautiful armada floating toward Iran right now. So we'll see’
— Moh Musthafa Hussain (@musthafaaa) January 28, 2026
ایران کی فوجی مشقیں اور آبنائے ہرمز کی بندش
ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب 3 روزہ لائیو فائر فوجی مشقوں کا نوٹس جاری کیا ہے، جس کے مطابق یہ مشقیں 27 تا 29 جنوری تک 5 ناٹیکل میل کے دائرے میں انجام پائیں گی۔ اس دوران 25,000 فٹ تک کی بلندی میں پروازیں ممنوع قرار دی گئی ہیں اور یہ علاقہ خطرناک قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران سے بڑھتی کشیدگی، امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں بڑی فوجی پیش قدمی، بحری بیڑا بحرِ ہند پہنچ گیا
ایرانی پاسداران انقلاب نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر امریکی جہاز ایرانی سمندری حدود میں آئے تو فوری کارروائی کی جائے گی۔ پاسدران انقلاب کے مطابق امریکی صدر گفتگو زیادہ کرتے ہیں، مگر جنگ کا فیصلہ میدان میں ہوگا۔ ایرانی حکام نے مزید کہا کہ اس فوجی مشق کے دوران ایران کی دفاعی تیاریوں اور نگرانی کو بڑھا دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔
امریکی بحری بیڑے کی آمد اور فوجی تیاریاں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایک امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے اور امید ہے کہ ایران مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کر لے گا۔ امریکی بحری بیڑے میں یو ایس ایس ابراہم لنکن سمیت کئی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز شامل ہیں، جبکہ لڑاکا طیارے اور جدید فضائی دفاعی نظام بھی خطے میں منتقل کیے جا رہے ہیں۔
US forces are quietly moving closer to Iran
Fighter jets left the UK for Jordan
Tankers and cargo planes backed the mission
An aircraft carrier is heading toward the Arabian SeaThis is not routine
This is positioning before options close pic.twitter.com/3BRIriC7Ra— OSINT_PK (@osintPk) January 18, 2026
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج خطے میں اپنی تیاریوں کو بڑھا رہی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدامات ایران کی جوہری صلاحیت کو محدود کرنے اور خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔
واشنگٹن میں حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے حوالے سے تمام آپشنز زیرِ غور ہیں، جس میں ممکنہ فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی خبردار کیا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو ایسا جواب دیا جائے گا جو ایران نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
سعودی عرب کا غیرجانبدار موقف
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے اور خطے میں تنازعات کے حل کے لیے مکالمے کی حمایت کرتا ہے۔
ایرانی صدر نے سعودی عرب کے مؤقف کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اور یکجہتی خطے میں دیرپا امن، استحکام اور سلامتی کی ضمانت بن سکتی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
خطے میں کشیدگی کے سیاسی و اقتصادی اثرات
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم نقطہ ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً ایک تہائی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ایران کی فوجی مشقیں، فضائی پابندیاں اور امریکی بحری بیڑے کی آمد نے عالمی تیل مارکیٹ میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حالات مزید کشیدہ ہوئے تو خطے میں نقل و حمل اور عالمی توانائی منڈی پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔
JUST IN:
🇺🇸🇮🇷 The United States is deploying an additional fleet of warships toward Iran. pic.twitter.com/timLbA8onN
— Globe Journal (@Factogenesis1) January 28, 2026
خطے میں اس کشیدگی نے نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے لیے بھی اہم چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو کسی جارحانہ کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، جس سے خطے میں سیاسی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ٹرمپ اور اسرائیل کا سخت مؤقف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کا ایک بڑا بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم امید ہے کہ اسے استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو جواب ایسی قوت سے دیا جائے گا جو ایران نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔
خطے کے ممالک کو پیغام
ایرانی حکام نے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی زمین، فضائی حدود یا پانی ایران کے خلاف استعمال ہوا تو انہیں دشمن تصور کیا جائے گا۔ تاہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ایران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی سرزمین یا فضائی حدود کسی بھی معاندانہ کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائیں گی۔
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری نقل و حرکت اور سخت بیانات نے خطے کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اس بات پر جمی ہیں کہ آیا یہ کشیدگی محض دباؤ کی سیاست تک محدود رہے گی یا آبنائے ہرمز ایک نئے تنازع کا مرکز بننے جا رہی ہے۔













