وفاقی آئینی عدالت (FCC) کی جانب سے سپر ٹیکس کو آئینی قرار دیے جانے کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں سہ ماہی (جنوری تا مارچ) کے دوران 150 سے 200 ارب روپے سپر ٹیکس کی مد میں وصول کرنے کا ہدف مقرر کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ریونیو شارٹ فال کو کم کرنا ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد حکمت عملی
ایف بی آر کے اعلیٰ حکام کے مطابق ادارہ آئینی عدالت کے تحریری فیصلے کا منتظر ہے، جس کی کاپی بدھ (آج) موصول ہونے کی توقع ہے۔
تحریری فیصلہ ملنے کے بعد جنوری کے صرف 2 ورکنگ ایام باقی رہ جائیں گے، جن میں ایف بی آر 50 سے 60 ارب روپے اکٹھا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تاکہ جنوری 2026 کے لیے مقرر 1,031 ارب روپے کے ہدف کو پورا کیا جا سکے۔
آئی ایم ایف کو آگاہی
ایف بی آر کے اعلیٰ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ عدالت کے فیصلے کے بعد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو سپر ٹیکس کے ذریعے 200 ارب روپے کی ممکنہ وصولی سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ مجموعی بقایا واجبات کا تخمینہ 300 ارب روپے لگایا گیا ہے، تاہم عملی طور پر 150 سے 200 ارب روپے کی وصولی متوقع ہے، جو رواں مالی سال کی اسی سہ ماہی میں حاصل کرنے کا منصوبہ ہے۔
سپر ٹیکس کا موجودہ ڈھانچہ
موجودہ قانون کے تحت سپر ٹیکس سالانہ منافع کی بنیاد پر عائد کیا جاتا ہے، جس کی شرح ایک فیصد سے 10 فیصد تک ہے۔
15 سے 20 کروڑ روپے منافع پر 1 فیصد
25 کروڑ روپے تک منافع پر 1.5 فیصد
30 کروڑ روپے تک 2.5 فیصد
35 کروڑ روپے تک 3.5 فیصد
40 کروڑ روپے تک 5.5 فیصد
50 کروڑ روپے تک 7.5 فیصد
اس سے زائد منافع پر 10 فیصد تک سپر ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔
یہ ٹیکس بنیادی طور پر بڑی کمپنیوں، بینکوں اور انتہائی منافع بخش شعبوں پر عائد کیا جاتا ہے۔
رواں مالی سال کی صورتحال
جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران ایف بی آر نے 6,161 ارب روپے جمع کیے، تاہم آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ ہدف کے مقابلے میں 329 ارب روپے کا ریونیو شارٹ فال سامنے آیا۔
مارچ 2026 تک ایف بی آر اور آئی ایم ایف کے درمیان 9,917 ارب روپے کی مجموعی وصولی پر اتفاق ہے، جس کے لیے جنوری سے مارچ کے دوران 3,756 ارب روپے اکٹھا کرنا ہوں گے۔
نئے ٹیکسز نہیں لگیں گے
وزارت خزانہ نے ایف بی آر کو بجٹ حکمت عملی سے متعلق ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ریونیو شارٹ فال کو نئے ٹیکس عائد کرنے کے بجائے ٹیکس وصولی بہتر بنا کر پورا کیا جائے گا، جبکہ اضافی ٹیکس نافذ نہیں کیے جائیں گے۔














