ایمیزون کی جانب سے عالمی سطح پر ملازمتوں میں ایک اور مرحلے کی کٹوتی کا انکشاف اس وقت ہوا جب ملازمین کو غلطی سے ایک ای میل بھیج دی گئی۔ یہ ای میل دراصل کمپنی کے اندرونی استعمال کے لیے تھی مگر حادثاتی طور پر ملازمین تک پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایمیزون میں مزید 14 ہزار کارپوریٹ ملازمین کی چھٹی متوقع
ایمیزون ویب سروسز کے ملازمین کو منگل کے روز ایک اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے اگلے دن کے لیے میٹنگ کی دعوت موصول ہوئی جو بعد میں منسوخ کر دی گئی۔ تاہم اس دعوت نامے کے ساتھ ایک ڈرافٹ ای میل بھی شامل تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ امریکا، کینیڈا اور کوسٹا ریکا میں متاثرہ ملازمین کو ان کی برطرفی سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
یہ ای میل ایمیزون کی کلاؤڈ کمپیوٹنگ شاخ ایمیزون ویب سروسز میں اپلائیڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی سینیئر نائب صدر کولین آوبری کے نام سے دستخط شدہ تھی۔ ای میل میں ان برطرفیوں کو پروجیکٹ ڈان کا نام دیا گیا تھا۔
ای میل میں کولین آوبری نے لکھا کہ اس قسم کی تبدیلیاں سب کے لیے مشکل ہوتی ہیں۔ یہ فیصلے آسان نہیں ہوتے لیکن مستقبل میں تنظیم اور ایمیزون ویب سروسز کی کامیابی کو مدِنظر رکھتے ہوئے سوچ سمجھ کر کیے جاتے ہیں۔
مزید پڑھیے: گارجیئن رپورٹ: اسرائیل مکروہ ہتھکنڈوں کے لیے گوگل اور ایمیزون کو کس طرح استعمال کر رہا ہے؟
ای میل میں انسانی وسائل کے سربراہ کی جانب سے ایک علیحدہ پیغام کا بھی ذکر تھا تاہم وہ پیغام بظاہر بھیجا ہی نہیں گیا۔
واضح رہے کہ ایمیزون نے گزشتہ سال اکتوبر میں 14 ہزار کارپوریٹ ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حالیہ دنوں میں مختلف میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ کمپنی ایک اور مرحلے میں برطرفیوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاہم ایمیزون نے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
ایمیزون کورونا وبا کے دوران بڑے پیمانے پر بھرتیوں کے بعد اب اخراجات کم کرنے اور اپنے وسیع آپریشن کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کمپنی کے دنیا بھر میں تقریباً 15 لاکھ ملازمین ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس تازہ مرحلے میں ایمیزون ویب سروسز اور اسٹورز ڈویژن سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایمیزون نے ڈرائیورز کے لیے اے آئی اسمارٹ چشمے متعارف کرا دیے
اس سے قبل ایمیزون کے چیف ایگزیکٹو اینڈی جیسی خبردار کر چکے ہیں کہ آئندہ برسوں میں مصنوعی ذہانت کئی وائٹ کالر ملازمتوں کی جگہ لے سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکا کی ڈیلیوری کمپنی یونائیٹڈ پارسل سروس نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال 30 ہزار تک ملازمتیں ختم کرے گی جو گزشتہ سال کی کٹوتیوں کے علاوہ ہوں گی۔ یونائیٹڈ پارسل سروس کا کہنا ہے کہ وہ کم منافع والی ترسیلات کم کر کے زیادہ منافع بخش شپمنٹس پر توجہ دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کتابوں کے شوقین افراد کے لیے اسپاٹیفائی کا شاندار فیچر
یہ ایمیزون کے لیے بڑی تعداد میں ڈیلیوریز انجام دیتی ہے، تاہم اب دونوں کمپنیاں ایک دوسرے کی حریف بھی بن چکی ہیں۔ یونائیٹڈ پارسل سروس کے مطابق ایمیزون کے ساتھ کاروبار اس کے منافع پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔














