روس شام میں اپنا فوج و سیاسی اثرورسوخ برقرار رکھنے کے لیے کوشاں، پیوٹن اور احمد الشرع کے درمیان کیا باتیں ہوئیں؟

بدھ 28 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شامی صدر احمد الشرع نے ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی ہے، جہاں روس شام میں اپنے فوجی اور سیاسی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ ملاقات اس وقت ہوئی ہے جب الشرع کو اقتدار سنبھالے ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور وہ روس کے سابق اتحادی بشار الاسد کو اقتدار سے بے دخل کرچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شامی صدر احمد الشرع کا روس کا پہلا دورہ، بشارالاسد کی حوالگی کا مطالبہ متوقع

ملاقات سے قبل نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احمد الشرع نے شام کے اتحاد کی حمایت پر روس کا شکریہ ادا کیا اور خطے کے استحکام میں روس کے تاریخی کردار کو سراہا۔ ولادیمیر پیوٹن نے شام میں استحکام کے لیے الشرع کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے شام کی علاقائی سالمیت کی بحالی کی پیشرفت پر مبارکباد دی۔

روس اور شام کی نئی قیادت ماضی میں شام کی خانہ جنگی کے دوران ایک دوسرے کے مخالف فریق رہے ہیں، جس کے باعث ماسکو میں شام میں روسی فوجی موجودگی کے مستقبل پر تشویش پائی جاتی رہی ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق مذاکرات میں شام میں روسی فوجیوں کی موجودگی پر بھی بات چیت کی گئی، جو فی الحال خمیمیم ایئر بیس اور طرطوس نیول بیس پر تعینات ہیں۔

رپورٹس کے مطابق روس نے حالیہ دنوں میں کرد کنٹرول شمال مشرقی شام کے شہر قامشلی کے ایئرپورٹ سے اپنی افواج واپس بلا لی ہیں، جس کے بعد بحیرہ روم کے ساحلی علاقوں میں واقع 2 اڈے روس کی سابق سوویت یونین سے باہر واحد فوجی تنصیبات رہ گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شام میں ابتک کی اہم گرفتاری، بشارالاسد کا بھروسہ مند کزن اور فوجی افسر پکڑا گیا

سیاسی تجزیہ کار سیموئل رامانی کے مطابق ماسکو کو ابتدا میں خدشہ تھا کہ دمشق میں روس مخالف حکومت قائم ہوسکتی ہے، تاہم روسی قیادت کو احمد الشرع کے رویے سے نسبتاً اطمینان ہوا ہے، اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات ماضی کے مقابلے میں محدود سطح پر آ چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق احمد الشرع نے عملی اور محتاط خارجہ پالیسی اختیار کی ہے اور امریکا سمیت خطے سے باہر طاقتوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ سیاسی اتار چڑھاؤ سے بچا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ روس بھی اس وقت الشرع کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے، اسی لیے دونوں فریق ایک دوسرے سے روابط بڑھا رہے ہیں۔

احمد الشرع نے اکتوبر میں ماسکو کے پہلے دورے کے دوران روس کے کردار کو نرم انداز میں پیش کیا تھا، حالانکہ روس نے دسمبر 2024 میں ملک چھوڑنے والے بشار الاسد اور ان کی اہلیہ کو پناہ دی تھی۔ الشرع اس کے باوجود بشار الاسد کی حوالگی کا مطالبہ کر چکے ہیں اور حالیہ بیان میں کہا تھا کہ سابق صدر کے مظالم کا شکار ہونے والے شامیوں کو انصاف ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں: بشار الاسد حکومت کا خاتمہ: شام نے روس کے ساتھ طویل المدتی فوجی معاہدہ ختم کردیا

دوسری جانب روس شام میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کا خواہاں ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسے دیگر اتحادیوں کے محاذ پر بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی تناظر میں روسی وزیر دفاع آندرے بیلوسوف نے حالیہ دنوں میں وینزویلا اور ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے کی بات کی ہے۔

شام کی نئی قیادت نے خارجہ پالیسی کو روس سے ہٹا کر امریکا کی جانب موڑنے کا عندیہ دیا ہے اور اس حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ امریکا نے حالیہ کشیدگی کے بعد شام میں فریقین کے درمیان جنگ بندی کرانے میں کردار ادا کیا، جو اب تک بڑی حد تک برقرار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈپریشن اور انگزائٹی خواتین کو بیماری کے خطرے کے قریب لے جا رہی ہیں

عمران خان کے آنکھوں کے علاج سے متعلق ذاتی معالج ڈاکٹر خرم مرزا کا اہم بیان سامنے آ گیا

صدر زرداری کا قومی کرکٹ ٹیم کی فتح پر اظہارِ مسرت

برطانیہ: جنسی جرائم اور ڈکیتی کے کیسز میں تاریخی اضافہ

اداکارہ علیزے شاہ کا معروف گلوکارہ شازیہ منظور پر بے ایمانی کا الزام

ویڈیو

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

 خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی

خیبر پختونخوا میں آج بھی جنرل فیض کی ٹیم بیوروکریسی کے اہم عہدوں پر اور صوبے کی کرتا دھرتا ہے، اختیار ولی خان

کالم / تجزیہ

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے

کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی