برطانیہ اور چین کے تعلقات میں نئی شروعات، کیئر اسٹارمر کی معاشی تعاون پر توجہ

جمعرات 29 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بنیادوں پر استوار کرنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے معاشی ترقی اور سکیورٹی تعاون کو ترجیح دینے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ ملاقات بیجنگ میں گریٹ ہال آف دی پیپل میں ہوئی، جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ ظہرانہ بھی کیا۔ کیئر اسٹارمر کا یہ دورہ 8 برس بعد کسی برطانوی وزیراعظم کا چین کا پہلا دورہ ہے، جسے لندن اور بیجنگ کے درمیان کشیدہ تعلقات کے بعد ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:لندن اور بیجنگ میں قربت؟ برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر کا چین کا اہم دورہ شروع

کیئر اسٹارمر نے ملاقات کے آغاز پر کہا کہ چین عالمی سیاست اور معیشت میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے، اس لیے برطانیہ چاہتا ہے کہ چین کے ساتھ ایک مہذب اور سنجیدہ تعلق قائم کیا جائے، جس میں تعاون کے مواقع تلاش کیے جائیں اور اختلافی معاملات پر بامعنی مکالمہ بھی جاری رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی حالات کا براہ راست اثر گھریلو معیشت، روزمرہ قیمتوں اور عوام کے احساسِ تحفظ پر پڑتا ہے، اسی لیے برطانیہ کو دوبارہ دنیا کی طرف کھل کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے اس موقع پر کہا کہ ماضی میں دونوں ممالک کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہا، جو کسی کے مفاد میں نہیں تھا۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ چین برطانیہ کے ساتھ طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کے لیے تیار ہے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مغربی ممالک چین کے ساتھ دوبارہ سفارتی روابط بڑھا رہے ہیں، خاص طور پر امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیوں اور تجارتی دھمکیوں کے باعث اتحادی ممالک اپنے لیے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔ اسٹارمر کا دورہ کینیڈین وزیراعظم کے حالیہ چین دورے کے فوراً بعد ہوا ہے، جس میں تجارتی رکاوٹیں کم کرنے پر معاہدہ طے پایا تھا۔

برطانوی حکومت کے مطابق اس دورے کے دوران انسانی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات کا بھی اعلان متوقع ہے، جس کے تحت غیر قانونی تارکینِ وطن کو یورپ منتقل کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف تعاون بڑھایا جائے گا۔ اس معاہدے میں معلومات کے تبادلے اور اسمگلنگ میں استعمال ہونے والے آلات کی فراہمی روکنے پر توجہ دی جائے گی۔

اگرچہ برطانیہ میں اپوزیشن اور سیکیورٹی ادارے چین کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں، تاہم اسٹارمر کے ساتھ 50 سے زائد کاروباری رہنماؤں کی موجودگی اس بات کی عکاس ہے کہ اس دورے میں اصل توجہ معاشی تعاون اور تجارتی مواقع کے فروغ پر مرکوز ہے۔

برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات کو ایک بالغ اور حقیقت پسندانہ انداز میں آگے بڑھایا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

بنگلہ دیش اقوامِ متحدہ کے پیس بلڈنگ کمیشن کا وائس چیئر منتخب

امریکی امیگریشن پالیسیوں کا المیہ؛ بیمار بیٹے کا آخری دیدار بھی نصیب نہ ہوا

سی ٹی ڈی کی کارروائی کامیاب ، اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے 6 دہشتگرد ہلاک

سعودی سائنسدان عمر یغی کی 2025 کے کیمسٹری نوبل انعام پر سعودی تنظیم کی پذیرائی

ویڈیو

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

 خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی

خیبر پختونخوا میں آج بھی جنرل فیض کی ٹیم بیوروکریسی کے اہم عہدوں پر اور صوبے کی کرتا دھرتا ہے، اختیار ولی خان

کالم / تجزیہ

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے