سپریم کورٹ نے قتل کے مجرم عبدالرزاق کی بریت کی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے اسے بری کر دیا۔ وکیل مجرم نے عدالت کو بتایا کہ گواہوں کے بیانات اور میڈیکل ایویڈینس مجرم کے خلاف کافی نہیں ہیں، اور ٹرائل کے طریقہ کار میں نقائص موجود ہیں۔ اس فیصلے کے بعد عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد حتمی ریمارکس دیے۔
یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ: قتل کے مجرم جواد علی کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل
مجرم عبدالرزاق کے وکیل جسٹس ریٹائرڈ صغیر احمد قادری نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ میں مقدمے کی سماعت کو ایک ہفتے میں مکمل کیا جانا چاہیے، تاہم موجودہ کیس میں گواہوں کے بیانات کے بعد جرح میں مہینے گزر گئے۔
وکیل نے مزید کہا کہ ہائیکورٹس کے رولز موجود ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کیا جا رہا، جس کی وجہ سے مقدمات میں غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے۔
ججز کے ریمارکس
جسٹس ہاشم کاکڑ نے وکلا کے رویے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے وکلا اتنے آزاد نہیں تھے اور ججز پر دباؤ ہوتا تھا، مگر اب وکلا موبائل ریکارڈنگ کے ذریعے گواہوں کے بیانات عدالت میں جمع کروا دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرائل کے دوران وکلا اور ججز کے درمیان رشتہ بدل گیا ہے اور عدالت کے لیے فیصلہ سنانا پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔
مجرم کی سزا اور سابقہ فیصلے
ٹرائل کورٹ نے مجرم عبدالرزاق کو پہلے سزائے موت سنائی تھی، جبکہ ہائیکورٹ نے بعد ازاں اسے عمر قید کی سزا دی تھی۔ سپریم کورٹ نے تمام دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ دیا کہ گواہوں کے بیانات اور میڈیکل ایویڈینس مجرم کے خلاف کافی نہیں ہیں اور اسے بری کر دیا گیا۔
وکیل مجرم کا موقف
جسٹس ریٹائرڈ صغیر احمد قادری نے سماعت کے بعد کہا کہ عدالت سے درخواست ہوگی کہ ٹرائل کے طریقہ کار کو درست کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی مقدمے میں تاخیر اور انصاف میں خلل نہ آئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالت نے موجودہ کیس میں انصاف کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے۔

















