اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اسمبلی احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ واقعے کے حوالے سے مختلف آرا سامنے آئی ہیں، تاہم معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں ڈی آئی جی سے بھی بات ہو چکی ہے اور جس کی بھی کوتاہی ثابت ہوئی، اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: قائم مقام گورنر ملک محمد احمد خان نے دستخط کردیے، پنجاب میں ہتک عزت بل قانون بن گیا
ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب پہلے ہی واضح کر چکی ہیں کہ ایسے معاملات میں کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ جن سیکریٹریز پر اسمبلی اجلاس میں شرکت لازم ہے، انہیں ہر صورت اجلاس میں آنا چاہیے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی کی اسمبلی احاطے میں میڈیا سے گفتگو@KulAalam @azamshaam @HussainAhmedCh8 pic.twitter.com/YlSITIFECU
— Media Talk (@mediatalk922) January 29, 2026
احتجاج سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ احتجاج ہر شہری کا حق ہے، کسی کو اس سے روکا نہیں جا سکتا، لیکن احتجاج کی آڑ میں اگر کوئی مجرمانہ فعل کیا جائے تو اسے روکنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے سڑکوں کی بندش پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی کی زندگی مفلوج کرکے اپنے مطالبات منوانا کسی صورت درست نہیں۔
ٹریفک مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے مثال دی کہ کرکٹ ٹیم کی آمدورفت کے باعث اکثر ٹریفک نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، اس لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ ٹیموں کی نقل و حرکت کے لیے ہیلی کاپٹر یا اسٹیڈیم کے قریب بہتر انتظامات کرے تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
مزید پڑھیں: اسپیکر کے پی کا خط پڑھ کر جواب دوں گا، امید ہے جمہوری باتیں لکھی ہوں گی، ملک محمد احمد خان
قومی دنوں کے حوالے سے گفتگو میں ملک محمد احمد خان نے کہا کہ انہوں نے کبھی 14 اگست کے موقع پر کسی سیاسی جماعت کا جھنڈا نہیں اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض لوگ یومِ آزادی پر بھی پاکستان کے پرچم کی بجائے اپنی جماعت کا جھنڈا لہراتے ہیں، اور جنہیں 14 اگست کی قدر نہیں، وہ بسنت جیسے تیوہار کو بھی سیاسی رنگ دے سکتے ہیں۔














