جغرافیائی سیاسی خدشات اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے اسٹاک مارکیٹ لرز اٹھی، کے ایس ای 100 انڈیکس 6 ہزار پوائنٹس سے زائد گرگیا

جمعرات 29 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو شدید دباؤ دیکھنے میں آیا، جہاں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا۔ اس صورتحال کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 6 ہزار سے زائد پوائنٹس کی بڑی کمی سے دوچار ہو گیا۔

کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا اور دن بھر فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔ دوپہر کے ابتدائی اوقات میں فروخت میں مزید تیزی آئی جس سے انڈیکس تیزی سے نیچے گرتا ہوا دورانِ ٹریڈنگ 181,961.14 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک پہنچ گیا۔ تاہم آخری گھنٹے میں معمولی ریکوری کے باعث نقصانات میں کچھ حد تک کمی دیکھنے میں آئی۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 6,042.26 پوائنٹس یا 3.21 فیصد کی نمایاں کمی کے ساتھ 182,338.12 پوائنٹس پر بند ہوا۔

مزید پڑھیں: معاشی اشاریے مضبوط، پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے تاریخ کی نئی بلندی چھو لی

ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں اس شدید دباؤ کی بنیادی وجوہات جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہیں۔ اسماعیل اقبال سیکورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ سعد حنیف نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال اور تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے کہ شرح سود میں ممکنہ کمی کا عمل تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔

عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثناء توفیق نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی تناؤ کے ساتھ ساتھ فوجی فرٹیلائزر لمیٹڈ کے مالیاتی نتائج بھی مارکیٹ کی توقعات سے کم رہے ہیں، جس کے باعث ہمہ جہت فروخت کا رجحان دیکھنے میں آیا۔

اہم پیشرفت کے طور پر مختلف تجارتی تنظیموں نے مجوزہ بھارت-یورپی یونین فری ٹریڈ معاہدے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے باوجود ملکی ٹیکسٹائل اور ہوزری برآمدات کے لیے ساختی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز کے ایس ای 100 انڈیکس 177.53 پوائنٹس یا 0.09 فیصد اضافے کے ساتھ 188,380.39 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

عالمی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں جمعرات کو استحکام دیکھا گیا، جہاں ٹیکنالوجی سیکٹر کے ملے جلے نتائج اور ایپل کے مالیاتی نتائج سے قبل سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیے رکھا۔ امریکی اور یورپی حکام کی زبانی حمایت کے باوجود ڈالر کی پوزیشن غیر مستحکم رہی۔

مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی برقرار، انڈیکس 1,100 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا

عالمی منڈی میں سونے اور چاندی کی قیمتیں نئی بلند ترین سطحوں تک پہنچ گئیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے بیانات کے بعد تیل کی قیمتیں بھی چار ماہ کی بلند ترین سطح پر آ گئیں۔

دوسری جانب امریکی فیڈرل ریزرو نے توقعات کے مطابق شرح سود برقرار رکھی، جبکہ چیئرمین جیروم پاول نے معاشی حالات میں بہتری اور شرح سود میں وقفے پر کمیٹی کے اندر وسیع اتفاق رائے کا عندیہ دیا۔ سرمایہ کاروں نے اپریل تک شرح سود میں کمی کے امکانات کو کم کرتے ہوئے 26 فیصد کر دیا ہے، جبکہ جون کو اگلا ممکنہ موقع قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلھے شاہ ایکسپریس کی 28 مئی سے بحالی کا اعلان

سرکاری ملازمیں ہر صبح 40 منٹ دفتر میں گزاریں، بنگلہ دیش میں ملازمین کو ہدایت

سپریم کورٹ نے انسانی اسمگلنگ کے ملزم کی ضمانت مسترد کر دی

پاکستان کو متبادل روٹ سے تیل کی سپلائی، سعودی عرب کی مکمل حمایت

پاکستان کی طالبان مخالف پالیسی، امر اللہ صالح بھی تعریف پر مجبور

ویڈیو

“قسطوں پر لیے گئے موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگا نہیں رہے، پولیس چالان کرتی جا رہی ہے”

سوری کافی نہیں، سچی معافی کا صحیح طریقہ سیکھیں

فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی ایران امریکا مذاکرات کی کوشش، ٹرمپ کا دنیا کو دھوکا، پاکستان کے افغانستان پر فضائی حملے

کالم / تجزیہ

پاکستان کی طالبان مخالف پالیسی، امر اللہ صالح بھی تعریف پر مجبور

سعودی عرب اور ذمہ دار علاقائی سیاست

یہ دنیا اب ٹرمپ کی دنیا ہے