۔
امریکی امیگریشن حکام کی جانب سے عائد پابندیاں ایک باپ کے لیے تاحیات عذاب بن گئیں، جو اپنے 30 سالہ بیٹے کی آخری سانسوں اور تدفین میں بھی شریک نہ ہو سکا۔
62 سالہ ماہر طرابیشی گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے بیٹے وائل کی تیمارداری کر رہے تھے، جو ایک نایاب جینیاتی مرض پومپے ڈیزیز میں مبتلا تھا۔
اس بیماری کے باعث وائل کو شدید عضلاتی کمزوری اور سانس لینے میں سنگین مسائل کا سامنا تھا، جس کے لیے اسے 24 گھنٹے نگہداشت اور درجنوں سرجریز کی ضرورت پڑی۔
ان تمام مراحل میں ماہر ہر وقت اپنے بیٹے کے ساتھ موجود رہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا جانا مشکل :امیگریشن پالیسی سخت کرنے کا بل کانگریس میں پیش
تاہم گزشتہ سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں کے تحت ماہر کو اچانک حراست میں لے لیا گیا، جس کے بعد وہ اپنے بیٹے سے جدا ہو گئے۔
گزشتہ جمعے جب وائل نے آخری سانس لی، تو اس کے والد اس کے پاس موجود نہ تھے۔
جمعرات کو ٹیکساس کے شہر آرلنگٹن کی ایک مسجد میں ہونے والی وائل کی نمازِ جنازہ میں بھی ماہر شریک نہیں ہوسکیں گے۔
ماہر اس وقت امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی تحویل میں ہیں، اور ان کی جانب سے عارضی رہائی کی تمام درخواستیں مسترد کردی گئیں۔
مزید پڑھیں: وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، امریکا نے افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستیں معطل کر دیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق وائل کی بھابھی شاہد ارناؤٹ کا کہنا تھا کہ وائل کی آخری خواہش تھی کہ کم از کم اپنے والد کو ایک بار دیکھ لے اور ان کا ہاتھ تھام سکے۔
اردنی نژاد ماہر کئی برسوں سے عدالتی ’سپر ویژن آرڈر‘ کے تحت امریکا میں مقیم تھے، جس کے تحت انہیں 2006 میں ملک بدری کے حکم کے باوجود اپنے بیٹے کی دیکھ بھال کے لیے امریکا میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔
ICE denies release of Texas man for son’s funeral
For decades, Maher, 62, had cared for his son as he struggled with a rare genetic condition called Pompe disease, which causes muscle weakness and severe respiratory problems. pic.twitter.com/du7IOULRFP— Ness Brisbane (@BrisbaneNe57067) January 29, 2026
اس اجازت کی ایک شرط یہ تھی کہ وہ ہر سال امیگریشن اینڈ کسٹمز اینفورسمنٹ کے سامنے حاضری دیں، جو انہوں نے 20 سال سے زائد عرصے تک باقاعدگی سے پوری کی۔
تاہم 28 اکتوبر 2025 کو معمول کی حاضری کے دوران امیگریشن اینڈ کسٹمز اینفورسمنٹ اہلکاروں نے انہیں حراست میں لے لیا۔
مزید پڑھیں: امریکا: ڈلاس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ پر فائرنگ، 2 افراد ہلاک
اہل خانہ نے کئی ماہ تک حکام کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ ماہر کی موجودگی وائل کی زندگی کے لیے ناگزیر ہے، مگر تمام اپیلیں بے سود رہیں۔
وائل کے اہل خانہ نے بتایا کہ والد سے جدائی کے دوران اس کی جسمانی اور ذہنی حالت تیزی سے بگڑتی چلی گئی۔ وہ 2 مرتبہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل ہوا اور بالآخر زندگی کی بازی ہار گیا۔
شاہد ارناؤٹ کے مطابق وائل کی موت کے ذمہ دار امیگریشن اینڈ کسٹمز اینفورسمنٹ یعنی آئس ہیں۔ ’انہوں نے اسے گولی سے نہیں مارا، لیکن اندر سے توڑ دیا۔‘
جیسے ہی وائل کے آخری لمحات قریب آئے، خاندان کے وکیل علی الہور نے ماہر کی رہائی کے لیے آخری کوششیں کیں، مگر حکام نے صرف آن لائن ویڈیو کال کی اجازت دی۔
مزید پڑھیں: منیاپولس میں وفاقی امیگریشن ایجنٹس کے ہاتھوں ایک اور امریکی شہری ہلاک، ملک بھر میں شدید احتجاج
تدفین میں شرکت کی اجازت بھی ابتدا میں دی گئی، مگر بعد ازاں اعلیٰ حکام کے حکم پر اسے بھی منسوخ کر دیا گیا۔
واقعے پر ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ امریکی اسلامی تعلقات کونسل کے ٹیکساس چیپٹر کے قائم مقام سربراہ مصطفیٰ کیرول نے اسے انتہائی بے رحمی اور اخلاقی دیوالیہ پن سے تعبیر کیا۔
’وہ ماہر کے ساتھ ایسے سلوک کر رہے ہیں جیسے وہ کوئی خطرناک مجرم ہو۔‘
اہل خانہ اور وکیل کے مطابق ماہر کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں، اور وہ ہمیشہ امیگریشن قوانین کی پابندی کرتے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’ٹرمپ کی دوسری ٹرم میں امریکا کے حالات مزید خراب‘، امریکی ووٹرز کی اکثریت شدید بدظن
اب ان کا کیس دوبارہ کھولنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کیونکہ ابتدائی امیگریشن کاغذات جمع کروانے والا شخص مبینہ طور پر جعلی وکیل نکلا۔
ماہر 1994 سے امریکا میں مقیم ہیں، تاہم گزشتہ سال ان پر فلسطین لبریشن آرگنائزیشن یعنی پی ایل او سے تعلق کا الزام عائد کیا گیا، جسے ان کے وکیل نے بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیا۔
وائل کی موت کے بعد ماہر کی رہائی کے لیے جدوجہد میں نئی شدت آ گئی ہے۔
شاہد ارناؤٹ کا کہنا تھا کہ ماہر وائل کے ہاتھ، پاؤں اور سانس تھے۔ ’اب وہ اکیلے ہیں، ٹوٹ چکے ہیں، کوئی خاندان اس کرب سے نہیں گزرنا چاہیے۔ یہ سب اب رکنا چاہیے۔‘












