حکومتی اشتہارات: میڈیا پر اثرات اور صحافت کے اخلاقی چیلنجز

پیر 2 فروری 2026
author image

کامران ساقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں سرکاری اشتہارات ہمیشہ سے میڈیا اور حکومت کے درمیان تعلقات کا ایک اہم پہلو رہے ہیں۔ یہ اشتہارات نہ صرف ذرائع آمدن ہیں، بلکہ حکومتوں کے لیے ’سافٹ پاور‘ کا ایک مؤثر ہتھیار بھی۔

سوال یہ ہے کہ یہ نظام کس حد تک شفاف ہے اور اس سے صحافت کے اصول و اخلاقیات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

ڈان میڈیا گروپ کے مرکزی اخبار کو دیے جانے والے سرکاری اشتہارات محدود کیے جانے کے بعد اب چند ماہ قبل حکومت کی جانب سے ڈان میڈیا گروپ کے ٹی وی اور ریڈیو کو بھی سرکاری اشتہارات کی فراہمی پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

اس حوالے سے  کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈان پاکستان کے معتبر ترین میڈیا اداروں میں شامل ہے اور سرکاری اشتہارات کی بندش ادارے کو مالی طور پر مفلوج کرنے کے مترادف ہے۔

سی پی این ای کے صدر اور سیکرٹری جنرل کے حوالے سے جاری بیان میں یاد دلایا گیا کہ ڈان میڈیا گروپ قیامِ پاکستان سے اب تک غیر جانبدار صحافت کے ذریعے عوام کو معلومات فراہم کرتا آ رہا ہے۔

اشتہارات کی غیر اعلانیہ بندش پر آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائٹی نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ تنظیم نے کہا کہ وہ اس فیصلے پر ’شدید مایوس‘ ہے۔

اے پی این ایس کی جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ گزشتہ 13 ماہ سے روزنامہ ڈان کو سرکاری اشتہارات کی کٹوتی کا سامنا تھا، مگر اب ڈان میڈیا کے زیرِ ملکیت نیوز چینل اور ریڈیو چینل کو بھی سرکاری اشتہارات سے محروم کر دیا گیا ہے، جو نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ آزادیٔ اظہار پر حملہ بھی ہے۔

پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن  نے بھی اشتہاری پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے ہمیشہ اشتہارات کو میڈیا اور آزادیٔ اظہار پر کنٹرول کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کی ہے۔

حکومتی اشتہارات کسی بھی ملک میں میڈیا کے لیے آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہوتے ہیں اور عوام تک سرکاری معلومات پہنچانے ا بنیادی ذریعہ بھی سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستان میں سرکاری اشتہارات کی تقسیم ایک باقاعدہ طریقۂ کار کے تحت کی جاتی ہے، جس میں وفاقی سطح پر پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) اور صوبائی سطح پر ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز (ڈی جی پی آر) مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ ادارے اشتہارات کی منظوری، میڈیا اداروں کے انتخاب، نرخوں کے تعین اور ادائیگی کے عمل کی نگرانی کرتے ہیں، تاہم اس نظام پر شفافیت، تاخیر سے ادائیگی اور اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم جیسے سوالات بھی اٹھتے رہے ہیں، جو نہ صرف میڈیا کی معاشی آزادی بلکہ عوام کے حقِ معلومات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

سینئر صحافی اعزاز سید، جو جیو نیوز سے وابستہ ہیں، اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ حکومتیں اشتہارات کے ذریعے دباؤ ڈالتی ہیں۔ بڑے میڈیا ہاؤسز اپنی وسیع سرکولیشن اور ویورشپ کے باعث کسی حد تک اس دباؤ کا مقابلہ کر لیتے ہیں، لیکن چھوٹے ادارے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ بعض اوقات بڑے ادارے بھی ہار مان لیتے ہیں کیونکہ اشتہارات کا ’کیک‘ اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہتا۔

اعزاز سید کے مطابق یہ معاملہ بنیادی طور پر ایک مسئلہ ہے جس کی کوئی اخلاقی بنیاد نہیں۔ ایک طرف ریاست بیرونی قرضوں کی متلاشی ہے، اور دوسری طرف وہی ریاست سرکاری اشتہارات کے ذریعے میڈیا کو نوازتی ہے۔ دنیا بھر میں اس مسئلے کا حل تسلیم شدہ ہے کہ حکومت کاروبار کے لین دین میں براہِ راست شامل نہ ہو، بلکہ صرف پالیسی سازی اور ریفارمز تک محدود رہے۔

ایک نجی نیوز چینل کے مالک نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، انکشاف کیا کہ اشتہارات کی تقسیم ہمیشہ حکومتی دباؤ سے مشروط رہی ہے۔

ان کے مطابق اگر ادارہ حکومت کی خواہشات کے مطابق خبریں شائع نہ کرے تو اشتہارات بند کر دیے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ اشتہارات کے ریٹس کا تعین اور ادائیگی کا عمل بھی غیر شفاف ہے۔ مخصوص میڈیا ہاؤسز کو زیادہ ریٹس ملتے ہیں جبکہ دیگر کو کم معاوضے پر قناعت کرنا پڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلز کی منظوری اور ادائیگی میں کئی ماہ لگ جاتے ہیں جس سے ادارے مالی مشکلات میں گھر جاتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ایک آزاد کمیشن ہونا چاہیے جو اشتہارات کی منصفانہ تقسیم اور ریٹس کے تعین کو یقینی بنائے، جبکہ ادائیگی کا عمل تیز اور شفاف بنایا جائے تاکہ ادارے آزاد صحافت جاری رکھ سکیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے ہم نوا اداروں کو کبھی ادائیگیوں کا مسئلہ نہیں ہوتا، چاہے وہ اپنے ورکرز کو تنخواہیں دیں یا نہ دیں۔ اس کے برعکس ’ڈمی اخبارات‘ بغیر کسی حقیقی سرمایہ کاری کے اشتہارات کو اپنے حصے میں لے لیتے ہیں، جو ایک سنگین چیلنج ہے۔

سینئر صحافی مائرہ عمران اس مسئلے کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو سرکاری اشتہارات کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر ریاست اپنی کارکردگی دکھانا چاہتی ہے تو سوشل میڈیا، ویب سائٹس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مواد اپ لوڈ کیا جا سکتا ہے، جہاں عوامی رائے اور تاثرات بھی براہِ راست ملتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اشتہارات سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہیں۔ حکومت کے وسائل کو اس مقصد پر خرچ کرنا، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز بھی محدود ہوں، محض تعیش ہے۔ البتہ میڈیا کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو سرکاری اشتہارات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پاکستان میں میڈیا کی آمدنی کا بڑا حصہ اشتہارات پر انحصار کرتا ہے۔ اشتہارات کی بندش براہِ راست تنخواہوں اور روزگار پر اثر ڈالتی ہے۔

تاہم مائرہ عمران کے مطابق یہ دلیل بھی ناقص ہے کہ صرف اشتہارات کی کمی کی وجہ سے ادارے اپنے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دیتے۔

پاکستان میں اس وقت 13 ہزار سے زائد اخبارات رجسٹرڈ ہیں، جب کہ دنیا بھر میں کئی بڑے اخبارات بند ہو چکے ہیں۔ ان میں سے کئی ’غیر فعال‘ یا صرف رسمی طور پر چھپنے والے اخبارات بھی اشتہارات کے بڑے حصے سے مستفید ہوتے ہیں۔ یہ شفافیت کے اصولوں کے بالکل خلاف ہے۔

وزارت اطلاعات کے مطابق زیادہ اشاعت والے اخبارات کو زیادہ اشتہارات دیے جانے کا اصول موجود ہے، لیکن یہ بھی غیر منصفانہ ہے کیونکہ بڑے ادارے نجی اشتہارات سے بھی کماتے ہیں۔

دوسری جانب چھوٹے ادارے اس سہولت سے محروم رہتے ہیں۔ ایک مثال پنجاب حکومت کی ہے، جس نے اپنی ایک سالہ کارکردگی کے موقع پر 60 صفحات پر مشتمل اشتہارات مختلف اخبارات میں شائع کرائے۔ یہ اشہارات بظاہر اخبار کا حصہ یا میگزین لگتے تھے۔ اس پر بھی اخبارات کے مالکان نے ’بندر بانٹ‘ کے الزامات عائد کیے۔

ملک راشد کا کہنا ہے کہ انکا ٹی وی چینل ان میڈیا اداروں میں سے ایک ہے جو صحافیوں کو خبروں کے ساتھ ساتھ اشتہارات لانے کی ذمہ داری بھی سونپی جاتی ہے، جہاں ان کی کارکردگی کا اندازہ صحافتی معیار کے بجائے حاصل کیے گئے اشتہارات سے لگایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس غیر رسمی نظام میں بعض رپورٹرز کو اشتہاری رقم میں حصہ یا دیگر مراعات دی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں سرکاری یا بااثر اداروں پر تنقیدی رپورٹنگ متاثر ہوتی ہے۔

ان کے مطابق یہ عمل ادارتی آزادی کو کمزور کرتا ہے اور صحافیوں کو خود ساختہ سنسرشپ پر مجبور کر دیتا ہے، جس کا براہِ راست اثر عوام کو ملنے والی آزاد اور غیر جانبدار معلومات پر پڑتا ہے۔

ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے حوالے سے حکومتی اشتہاری پالیسی اب تک واضح اور جامع شکل اختیار نہیں کر سکی۔ اگرچہ حکومت عوامی آگاہی کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے، تاہم سرکاری اشتہارات کی بڑی مقدار اب بھی روایتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک محدود ہے۔

پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا کو سرکاری اشتہارات کے لیے عموماً پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) یا صوبائی ڈی جی پی آر کے ذریعے محدود پیمانے پر شامل کیا جاتا ہے، جہاں ویب سائٹس کی رجسٹریشن، مواد کی نوعیت اور رسائی کے اعداد و شمار کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق واضح معیار، شفاف تقسیم اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے باضابطہ پالیسی کے فقدان نے آزاد ڈیجیٹل صحافت کو مالی طور پر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے، جس کے اثرات عوام تک معلومات کی ترسیل پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

ڈیجیٹل میڈیا نے اس حکومتی کنٹرول کو کسی حد تک محدود کیا ہے۔ آن لائن اشتہارات میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے برانڈز براہِ راست مواد کے مطابق اپنی جگہ پاتے ہیں، یوں حکومت کا کردار کم ہو جاتا ہے۔ لیکن جب صحافی خود اشتہارات کا انتظام سنبھالتے ہیں تو ان کی رپورٹنگ اور معلومات جمع کرنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مالیات کو صحافتی کام سے الگ رکھنا بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے تاکہ خبر دباؤ یا جانبداری سے پاک ہو۔ اس کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اشتہارات کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے کئی اداروں میں صحافیوں کی تنخواہوں میں تاخیر کی جاتی ہے، جو ایک نیا دباؤ پیدا کرتی ہے

سوشل میڈیا کو بھی اشتہاری نیٹ ورک کا حصہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگرچہ اس میں پیش رفت سست ہے، مگر مستقبل میں یہ ایک بڑا متبادل بن سکتا ہے۔ تاہم، جب تک شفافیت، میرٹ اور موثر مانیٹرنگ کا نظام قائم نہیں ہوگا، حکومتی اشتہارات کا موجودہ بحران ختم نہیں ہو سکتا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلھے شاہ ایکسپریس کی 28 مئی سے بحالی کا اعلان

سرکاری ملازمیں ہر صبح 40 منٹ دفتر میں گزاریں، بنگلہ دیش میں ملازمین کو ہدایت

سپریم کورٹ نے انسانی اسمگلنگ کے ملزم کی ضمانت مسترد کر دی

پاکستان کو متبادل روٹ سے تیل کی سپلائی، سعودی عرب کی مکمل حمایت

پاکستان کی طالبان مخالف پالیسی، امر اللہ صالح بھی تعریف پر مجبور

ویڈیو

“قسطوں پر لیے گئے موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگا نہیں رہے، پولیس چالان کرتی جا رہی ہے”

سوری کافی نہیں، سچی معافی کا صحیح طریقہ سیکھیں

فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی ایران امریکا مذاکرات کی کوشش، ٹرمپ کا دنیا کو دھوکا، پاکستان کے افغانستان پر فضائی حملے

کالم / تجزیہ

پاکستان کی طالبان مخالف پالیسی، امر اللہ صالح بھی تعریف پر مجبور

سعودی عرب اور ذمہ دار علاقائی سیاست

یہ دنیا اب ٹرمپ کی دنیا ہے