ملک کے بڑے ایکسپورٹرز اور نمایاں کاروباری شخصیات کے اعزاز میں منعقدہ پروقار تقریب میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے نہ صرف قومی معیشت میں اہم خدمات انجام دینے والے ایکسپورٹرز کو ایوارڈز سے نوازا، اور اس موقع پر خطاب میں کہا کہ پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں، خاص طور پر آئی ایم ایف، کے ساتھ کیے گئے اپنے مذاکرات اور اقدامات کا بھی تذکرہ کیا۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزرا کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کو 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا عزم، حکومت اور چیمبر آف کامرس کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط
وزیراعظم نے کہا کہ 2025 میں کاروباری شخصیات اور ایکسپورٹرز نے اپنی شبانہ روز محنت اور ایجادات کے ذریعے پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا۔ انہوں نے ہر ایکسپورٹر اور کاروباری شخصیت کی محنت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالنا
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان ایک مشکل مالیاتی دور سے گزرا، جہاں ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پیرس میں عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران سخت شرائط کے باوجود حکومت نے بھرپور اقدامات کرتے ہوئے اسٹینڈ بائی پروگرام حاصل کیا اور پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالا۔ عالمی بینکوں اور دوست ممالک کے تعاون سے اس بحران پر قابو پایا گیا اور قومی معیشت کو مستحکم رکھا گیا۔
وفاقی وزیر تجارت کا موقف
وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے کہا کہ حکومت برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومتی ٹیم دن رات کام کر رہی ہے تاکہ کاروباری برادری اور ایکسپورٹرز کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا سکے۔
آج جس مقام پر ہم پہنچ چکے ہیں، میں بلا خوف و خطر کہہ سکتا ہوں کہ ہم ایک مستحکم معیشت بن چکے ہیں۔ اس وقت مہنگائی ایک ہندسہ (single digit) میں ہے اور پالیسی ریٹ دس اعشاریہ پانچ (10.5) فیصد ہے، وزیر اعظم شہباز شریف pic.twitter.com/6qsqMgpX6h
— WE News (@WENewsPk) January 30, 2026
قوم اور سرمایہ کاروں کی قربانیاں
وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم نے قربانیاں دی ہیں، خاص طور پر غریب عوام نے انتہائی سخت مشکلات کا سامنا کیا۔ مہنگائی 32 فیصد تک پہنچ چکی تھی اور اینکرز 20 فیصد پر بیٹھے ہوئے تھے۔ پالیسی ریٹ ساڑھے 21 یا 22 فیصد تھا اور ملک میں غیر یقینی صورتحال تھی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں نیا موڑ، معیشت، ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی میں اسٹریٹجک ہم آہنگی مضبوط
انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر کے سرمایہ کاروں نے بھی صبر اور قربانی کے ساتھ مشکلات کا مقابلہ کیا، امید رکھتے ہوئے کہ حکومت مسائل پر قابو پائے گی اور ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ چاہے وہ پشاور میں ہوں، کوئٹہ، لاہور، کراچی، گلگت یا آزاد کشمیر کے مظفرآباد میں، سب نے پاکستان کے لیے مشکل ترین وقت دیکھا اور نقصانات برداشت کیے۔
مضبوط اور مستحکم معیشت کی طرف قدم
وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم بلا خوف تردید کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایک مضبوط اور مستحکم معیشت بن چکے ہیں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اس کی واضح علامات سب کے سامنے ہیں۔ فی الوقت انفلیشن سنگل ڈیجٹ میں ہے اور پالیسی ریٹ ساڑھے 20 فیصد کے قریب ہے۔
انہوں نے کہا کہ گورنر اسٹیٹ بینک مضبوط فیصلے کر رہے ہیں، وہ مشورے سنتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں، اور جراتمندانہ فیصلے کرنے والے ہیں۔ اگر کبھی چھوٹا سا اختلاف بھی ہو جائے تو ان کے فیصلوں پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔
دوست ممالک سے قرض اور مالی حکمت عملی
وزیراعظم نے بتایا کہ ہمارے ریزروز برائے فارن ایکسچینج الحمدللہ تقریباً دوگنا ہو چکے ہیں، لیکن اس میں دوست ممالک سے حاصل کردہ قرضے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوست ممالک کے تعاون سے اقتصادی بحران پر قابو پایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:روپے کی قدر میں مضبوطی، پاکستانی معیشت کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟
وزیراعظم نے وضاحت کی کہ جب کسی ملک کو قرض لینا پڑتا ہے تو اسے اپنی عزت اور شخصیت کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہر مرحلے پر احتیاط، حکمت اور مضبوط مذاکرات کے ذریعے پاکستان کے مفاد میں بہترین نتائج حاصل کیے اور قومی معیشت کو مستحکم رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔
صنعتوں کے لیے بجلی 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کا اعلان
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ صنعتوں کو بجلی 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ کم قیمت پر فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے بعد دنیا اب پاکستان کی بات سن رہی ہے اور سرمایہ کاری کے لیے بین الاقوامی رابطے کیے جا رہے ہیں۔ اسی موقع پر ایوارڈ یافتہ کاروباری افراد کو بلیو پاسپورٹ دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔












