لاہور میں بھاٹی گیٹ کے قریب ماں اور بیٹی کے کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعے پر لاہور ہائیکورٹ میں وزیر اطلاعات پنجاب سمیت متعلقہ افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
درخواست جوڈیشل ایکٹوزیم پینل کے سربراہ اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی، جس میں حکومت پنجاب، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔
واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی استدعا کرتے ہوئے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انتہائی گنجان آباد علاقے میں مین ہول کو کھلا چھوڑنا واضح غفلت اور لاپرواہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھاٹی گیٹ سانحہ، ماں بیٹی کی ہلاکت پر 3 ذمہ داران نامزد، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی
’جس کے نتیجے میں 2 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، ماں اور بیٹی کی ہلاکت کو حادثہ قرار دینا حقائق کے منافی ہے، یہ واقعہ مجرمانہ غفلت کا شاخسانہ ہے۔
درخواست میں نشاندہی کی گئی ہے کہ لاہور میں ہر سال 10 ہزار سے زائد مین ہول کے ڈھکن چوری ہو جاتے ہیں، اس کے باوجود حکومت اور متعلقہ ادارے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہے۔
درخواست گزار نے موقف اپنایا گیا کہ اصل ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے حکومت نے نمائشی اقدامات کیے۔
مزید پڑھیں: بھاٹی چوک حادثہ: داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی پوری ٹیم معطل
درخواست میں پولیس کی جانب سے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 322 کے تحت مقدمہ درج کرنے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سنگین واقعے میں سخت دفعات کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہیے تھا۔
اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے درخواست میں مزید مؤقف اختیار کیا کہ واقعے کے بعد پولیس اور حکومتی نمائندوں نے متاثرہ خاندان کو ہراساں کیا اور حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ واقعے کے اصل حقائق جاننے اور لواحقین کے لیے معاوضے کے تعین کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔
مزید پڑھیں: لاہور: ’ گٹر میں گرنے والی ماں، بیٹی کی خبر کو فیک نیوز کہنے والوں پر پیکا لگے گا؟‘
مزید یہ کہ غفلت کے مرتکب افسران سے 25 کروڑ روپے کا معاوضہ وصول کر کے متاثرہ خاندان کو ادا کیا جائے۔
اس کے علاوہ غلط معلومات پھیلانے پر وزیر اطلاعات پنجاب، ڈپٹی کمشنر لاہور اور دیگر متعلقہ افسران کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔













