لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں ماں اور بیٹی کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعے کے بعد متوفیہ کے شوہر کو حراست میں لینے اور مبینہ تشدد کی اطلاعات پر پولیس میں اعلیٰ سطحی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔
واقعے پر غفلت اور غیر مناسب پولیس ردِعمل کے الزامات کے بعد ایس ایچ او زین عباس کو معطل کر دیا گیا جبکہ متعلقہ ڈی ایس پی کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور بھاٹی گیٹ واقعہ: پولیس نے تشدد کیا اور قتل کا اعتراف کرانے کی کوشش کی،شوہر کا الزام
میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کے مجموعی ردِعمل اور ذمہ داریوں کے تعین کے لیے اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے، جن میں ایس پی سطح کے افسران کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
لاہور: بھاٹی گیٹ میں ماں اور بچی کے گٹر میں گرنے کے افسوسناک واقعے پر پولیس افسران کے خلاف کارروائی
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے متاثرہ خاتون کے خاوند کو حراست میں لینے اور مبینہ تشدد کی اطلاعات پر ایس ایچ او بھاٹی گیٹ زین عباس کو معطل کر دیا، جبکہ ڈی ایس پی کو اظہارِ وجوہ کا… https://t.co/27WY61ilq2— Zaeem leghari (@Zaeemlegharii) January 30, 2026
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعے کی آزادانہ محکمانہ انکوائری کے لیے باقاعدہ خط جاری کر دیا ہے۔
ڈی آئی جی کے مطابق انکوائری میں اس امر کا تعین کیا جائے گا کہ متوفیہ کے شوہر اور دیور کو حراست میں لینے کی وجوہات کیا تھیں۔
مزید پڑھیں: بھاٹی گیٹ سانحہ: وزیر اطلاعات پنجاب سمیت افسران کیخلاف مقدمے کی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر
دوسری جانب ریسکیو کال موصول ہونے کے باوجود پولیس کی جانب سے گرفتاری کے اقدام کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 2 روز قبل داتا دربار کے قریب ایک خاتون اور اس کی کمسن بیٹی کھلے سیوریج مین ہول میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھیں۔
ابتدائی طور پر پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے واقعے کی تردید کرتے رہے اور اسے بے بنیاد قرار دیا گیا،
مزید پڑھیں:لاہور سیوریج لائن حادثہ: کتنے ترقیاتی منصوبے حفاظتی اقدامات کے بغیر جاری ہیں؟
تاہم تقریباً 10 گھنٹے بعد دونوں کی لاشیں جائے وقوعہ سے تقریباً 3 کلومیٹر دور سے برآمد ہوئیں۔
لاشوں کی برآمدگی کے بعد متوفیہ کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد پروجیکٹ مینیجر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج دانیال اور سائٹ انچارج احمد نواز کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔













