یونیورسٹی آف کمالیہ کا انٹرپرینیورشپ انیشی ایٹو، دیگر پاکستانی جامعات کے لیے نئی مثال

جمعہ 30 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب کی تحصیل سطح پر قائم ہونے والی پہلی سرکاری جامعہ، یونیورسٹی آف کمالیہ نے انڈرگریجویٹ کے پہلے سمسٹر کے طلبہ کے لیے ’انٹرپرینیورشپ انیشی ایٹو‘ متعارف کرا کر اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک انقلابی قدم اٹھا لیا ہے۔

اس اقدام کے تحت انڈرگریجویٹ کے پہلے سمسٹر کی 31 طلبہ ٹیموں نے وینچر کیپیٹل فورم کے سامنے اپنے کاروباری آئیڈیاز پیش کیے۔ فورم نے فوری طور پر 8 ٹیموں کے منصوبوں کی منظوری دیتے ہوئے ہر ٹیم کو 10 لاکھ روپے سے زائد کی فنڈنگ فراہم کی۔

ابتدائی طور پر مجموعی طور پر تقریباً ایک کروڑ روپے طلبہ ٹیموں کو دیے گئے، جبکہ اس عمل کو مزید وسعت دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔

یونیورسٹی آف کمالیہ کا یہ اقدام اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اگر جامعات جرات، وژن اور اختراعی سوچ کے ساتھ روایتی تعلیمی ماڈلز سے آگے بڑھیں تو وہ قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہ ماڈل ملک بھر کی جامعات کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔

وائس چانسلر کا مؤقف: طلبہ کو محض نوکری کے متلاشی نہیں، مواقع پیدا کرنے والا بنانا مقصد ہے

وائس چانسلر یونیورسٹی آف کمالیہ، پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام ملکی جامعات میں تدریسی اصلاحات اور عملی تعلیم کے فروغ کی ایک نایاب مثال ہے، خصوصاً اس لیے کہ اسے طلبہ کے تعلیمی سفر کے بالکل ابتدائی مرحلے میں متعارف کرایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد طلبہ کو مالی خودمختاری، کاروباری سوچ، تنقیدی شعور، تخلیقی صلاحیت، قیادت اور فیصلہ سازی کی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔ یونیورسٹی نے روایتی ملازمت کے حصول پر مبنی سوچ سے ہٹ کر ایک ایسا وژن اپنایا ہے جو طلبہ کو اختراع کار اور قومی معیشت کے فعال کردار کے طور پر تیار کرتا ہے۔

متوسط طبقے کے طلبہ کی غیر معمولی کارکردگی

وائس چانسلر کے مطابق یونیورسٹی آف کمالیہ کے طلبہ کی اکثریت سادہ اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے، جنہوں نے سرکاری اسکولوں اور کالجوں سے تعلیم حاصل کی۔ ان میں سے کئی طلبہ نے یونیورسٹی میں داخلے سے قبل کسی عوامی فورم پر اظہارِ خیال نہیں کیا تھا، تاہم پہلے ہی سمسٹر کے اختتام پر ان طلبہ نے نہایت منظم، پیشہ ورانہ اور پراعتماد انداز میں اپنے منصوبے پیش کر کے اپنی فکری پختگی اور ادارہ جاتی تربیت کا ثبوت دیا۔

یونیورسٹی آف کمالیہ کا یہ اقدام نوجوانوں کو بااختیار بنانے، معاشی خود کفالت کے فروغ اور پائیدار قومی ترقی کی جانب ایک مضبوط اور عملی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز

ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مکروہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر

گلگت بلتستان انتخابات سبوتاژ کرنے کے لیے پی ٹی آئی افراتفری پر اتر آئی

ویڈیو

مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟

صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء

عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر

کالم / تجزیہ

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے

جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی