بلوچستان ہائیکورٹ میں شاہد رند کی بطور وزیراعلیٰ بلوچستان معاون (سیاسی و میڈیا امور) تقرری کو چیلنج کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاق اور گزشتہ صوبائی حکومتوں کے درمیان کمیونیکیشن گیپ بلوچستان میں بغاوت کی وجہ ہے، ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند
اس حوالے سے ایڈووکیٹ عبدالصادق خلجی کی جانب سے دائر آئینی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی گئی۔
درخواست پر سماعت بلوچستان ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس نجم الدین مینگل نے کی۔
درخواست گزار کے مطابق شاہد رند کی بطور وزیراعلیٰ معاون تعیناتی قانون اور آئین کے خلاف ہے اور وزیراعلیٰ بلوچستان کو اس نوعیت کی تقرری کا اختیار حاصل نہیں۔
مزید پڑھیے: بلوچستان حکومت کا مذہبی امور کے بعد محکمہ خوراک بھی ختم کرنے کا فیصلہ
ایڈووکیٹ عبدالصادق خلجی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سپریم کورٹ اور مختلف ہائیکورٹس اس طرح کی تعیناتیوں کے خلاف ماضی میں واضح فیصلے دے چکی ہیں اس کے باوجود غیر قانونی تقرریاں کی جا رہی ہیں۔
عدالت نے فریقین کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان اور شاہد رند کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے مزید سماعت عدالتی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
مزید پڑھیں: بلوچستان حکومت نے محکمہ مذہبی امور ختم کرنے کی منظوری دیدی
واضح رہے کہ ایڈووکیٹ عبدالصادق خلجی اس سے قبل بھی ترجمانوں اور کوآرڈینیٹرز کی تقرریوں کو متعدد بار عدالت میں چیلنج کر چکے ہیں۔














