وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بے قابو آبادی میں اضافے کو پاکستان کے سب سے بڑے سماجی اور معاشی چیلنجز میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے مستقبل کے تحفظ کے لیے مسلسل اور شواہد پر مبنی خاندانی منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ نے میر خلیل الرحمٰن فاؤنڈیشن اور پاپولیشن کونسل پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام ’وقفہ – توازن کے لیے‘ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 54 برس میں پاکستان کی آبادی بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں دگنا بڑھی ہے، اور اگر وقت پر مناسب پالیسیز اپنائی جاتیں تو آج ملک کی آبادی قریباً 15 کروڑ 50 لاکھ ہوتی۔
مزید پڑھیں:وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایک سالہ حکومتی کارکردگی رپورٹ پیش کردی
انہوں نے واضح کیا کہ آبادی کا مسئلہ مذہبی یا سیاسی نہیں بلکہ ایک سماجی اور اقتصادی مسئلہ ہے۔ مراد علی شاہ نے بین الاقوامی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب، ایران، ترکی اور دیگر ممالک نے آبادی کو کامیابی سے کنٹرول کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کم عمری کی شادی، مانع حمل ذرائع کے استعمال اور عوامی آگاہی جیسے مسائل پر بروقت توجہ نہ دینے کی وجہ سے ملک بہت پیچھے رہ گیا۔ انہوں نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو گھر گھر جا کر خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں آگاہی دی گئی، مگر موجودہ شرح آبادی اب بھی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
وزیراعلیٰ نے عوام اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ خاندانی منصوبہ بندی اور پولیو کے خاتمے کی مہمات میں بھرپور تعاون کریں۔ انہوں نے میڈیا سے بھی کہا کہ وہ آگاہی پیغامات کو خبرناموں کے آغاز میں نشر کریں تاکہ عوام اور والدین کو بچوں کے مستقبل سے متعلق باخبر بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں:بٹن دبا کر پانی نہیں نکال سکتے، لوگوں کو سڑکوں پر نہیں نکلنا چاہیے تھا، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
مراد علی شاہ نے زور دیا کہ آبادی اور پولیو 2 بڑے قومی چیلنجز ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے قومی اتفاقِ رائے، مستقل حکمت عملی اور معاشرتی شراکت داری ضروری ہے۔













