وزیراعظم شہباز شریف نے فوڈ سیفٹی اور برآمدی معیار کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے پنجاب ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کا افتتاح کردیا۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خوراک، زرعی اجناس اور ادویات کے لیے ایک مربوط اور خودمختار ریگولیٹری ادارہ وقت کی اہم ضرورت تھی۔
یہ بھی پڑھیں: زرعی شعبے میں انقلابی قدم، نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی کا قیام
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ پنجاب ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی خطے میں معیار، شفافیت اور تحقیق کا مرکز بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ خوراک اور ادویات کی شفاف نگرانی صارفین، کسانوں اور برآمدکنندگان کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 20 سال قبل کراچی میں ایک جدید لیبارٹری ایک دوست ملک کی گرانٹ سے قائم کی گئی تھی مگر اسے استعمال میں لانے کے بجائے نظرانداز کیا گیا، بعد ازاں ایک اسکینڈل کے دوران یہ معاملہ سامنے آیا جس نے ادارہ جاتی بدانتظامی کو بے نقاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر عطیہ دینے والے ممالک کو معلوم ہو کہ پاکستان میں گرانٹس اس طرح ضائع کی جاتی ہیں تو اس کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ اجلاس میں نیشنل ایگری ٹریڈ اتھارٹی بل اور صحافیوں کے مسائل پر غور
انہوں نے انکشاف کیا کہ 6 سے 8 ماہ قبل وفاقی کابینہ میں چاول کی برآمدات سے متعلق شکایت سامنے آئی جس پر تحقیقات ہوئیں اور مکمل بدعنوانی ثابت ہونے پر ذمہ دار افراد کو جیل بھیجا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ متعلقہ ادارے کو مکمل طور پر ری اسٹرکچر کیا گیا، پرانا عملہ فارغ کیا گیا اور نئی قیادت کے تحت شفاف نظام قائم کیا گیا جو کئی دہائیوں بعد پہلی بار مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پنجاب ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کا قیام ان کی قیادت اور عزم کا نتیجہ ہے، جو ایک بڑی عوامی خدمت ہے۔
نئی اتھارٹی اور لیبارٹری بین الاقوامی معیار کے مطابق قائم کی گئی، مریم نواز
تقریب سے خطاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں عالمی معیار کی ٹیسٹنگ لیبارٹری کا نہ ہونا تشویشناک تھا، جس سے برآمدکنندگان اور صارفین دونوں متاثر ہو رہے تھے، نئی اتھارٹی اور لیبارٹری بین الاقوامی معیار کے مطابق قائم کی گئی ہے، جو فوڈ اور ڈرگ ریگولیشن کے نظام میں ایک اہم خلا کو پُر کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں مستند ٹیسٹنگ سہولیات نہ ہونے کے باعث برآمدکنندگان کو بھاری نقصانات کا سامنا تھا جبکہ صارفین غیر معیاری خوراک اور ادویات کے خطرے میں تھے۔ نئی اتھارٹی کے قیام سے پاکستان کی برآمدات پر عالمی اعتماد بحال ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 23 ہزار کاروباری اداروں کو بہتر ریگولیٹری نظام کے تحت پنجاب میں کام کرنے کی اجازت دی جاچکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد سے گدھے کا گوشت برآمد ہونے کے بعد شہریوں میں تشویش، پولیس کی تفتیش جاری
اسی موقع پر خواتین سائنسدانوں کے لیے ایک جدید ہاسٹل کا بھی افتتاح کیا گیا جس پر 2.3 ارب روپے لاگت آئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس سہولت سے ملک بھر سے آنے والی خواتین سائنسدانوں کو تحقیق اور کام کے بہتر مواقع میسر آئیں گے، جو شمولیت اور میرٹ پر مبنی ترقی کی علامت ہے۔
مریم نواز نے پنجاب میں ڈیجیٹل اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا رہا۔
انہوں نے بتایا کہ جرائم کی روک تھام کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے، سیٹلائٹ کرائم سین یونٹس کو 38 اضلاع تک توسیع دی جا رہی ہے اور خواتین کے تحفظ کے لیے ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشنز قائم کیے جاچکے ہیں۔ انہوں نے ای بزنس رجسٹریشن کے آغاز کا بھی اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں زیادہ تر پاپس، نمکو اور مصالحے غیر معیاری قرار
وزیراعلیٰ کے مطابق پنجاب ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی 10 سال کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے اور اب یہ ادارہ مکمل طور پر فعال ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن ہے اور عوامی خدمت حکومت کا بنیادی نصب العین ہے۔
تقریب کے اختتام پر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ نے اتھارٹی اور لیبارٹری کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا، جہاں انہیں نظام کار سے متعلق بریفنگ دی گئی، جبکہ پاکستان کی پہلی پنجاب ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی پر ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی۔













