آزاد جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال میں انتقال کرگئے۔
صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا شمار خطے کے ان سیاست دانوں میں ہوتا تھا جو گزشتہ قریباً ساڑھے تین دہائیوں سے کشمیر کی سیاست میں متحرک کردار ادا کر رہے تھے۔
مزید پڑھیں: پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا کر بھارت اپنے جرائم چھپانا چاہتا ہے، صدر آزاد کشمیر سلطان چوہدری
ان کا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے تھا، ان کے والد چوہدری نور حسین بھی کشمیر کی سیاست کا ایک نمایاں نام رہے، جنہوں نے آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس سے علیحدگی اختیار کر کے ’آزاد مسلم کانفرنس‘ کے نام سے اپنی جماعت بنائی اور اسی پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
بیرسٹر سلطان محمود نے برطانیہ سے بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی اور 1980 کی دہائی میں وطن واپسی کے بعد عملی سیاست میں قدم رکھا۔ واپسی پر انہوں نے اپنے والد کی قائم کردہ جماعت آزاد مسلم کانفرنس کی قیادت سنبھالی۔
1985 میں وہ پہلی بار قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے 8 مرتبہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی، اور اس سیاسی سفر کے دوران ایک مرتبہ وزیراعظم اور ایک مرتبہ اپوزیشن لیڈر اور پھر صدر ریاست کے عہدے پر فائز ہوئے۔
1990 میں دوبارہ اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کے بعد انہوں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا، جس کی بنیادی شرط یہ رکھی گئی کہ انہیں آزاد کشمیر کا صدر بنایا جائے گا۔ تاہم پیپلز پارٹی کے بعض منتخب نمائندوں نے ان کی حمایت سے انکار کردیا، جس کے نتیجے میں سردار عبدالقیوم صدر منتخب ہو گئے۔
1991 کے انتخابات میں بیرسٹر سلطان محمود کو پہلی بار اپنی آبائی نشست پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس انتخابی ناکامی کے بعد انہوں نے آزاد مسلم کانفرنس کو جموں و کشمیر لبریشن لیگ میں ضم کر دیا اور اس نئی جماعت کی قیادت سنبھال لی۔
بعد ازاں 1996 کے عام انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی کی صدارت حاصل کرنے کی شرط پر انہوں نے لبریشن لیگ سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ 1996 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کے بعد بیرسٹر سلطان آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہو گئے۔
12 اکتوبر 1999 کو پاکستان میں مارشل لا نافذ ہوا اور جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا، تاہم اس کے باوجود آزاد کشمیر کی اسمبلی اور حکومت کو برقرار رکھا گیا اور بیرسٹر سلطان محمود بدستور وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہے۔
اگلے 2 برسوں کے دوران ان کے جنرل مشرف سے قریبی تعلقات قائم ہو گئے۔ تاہم چوہدری برادران کی مداخلت اور مسلم کانفرنس کی حمایت کے باعث 2001 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو شکست ہوئی اور بیرسٹر سلطان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بن گئے۔
فوجی حکمرانوں کے ساتھ روابط کے باعث بے نظیر بھٹو پہلے ہی بیرسٹر سلطان سے نالاں تھیں۔ اسی دوران اپنے ایک قریبی عزیز چوہدری محبوب کو کشمیر کونسل کا رکن بنوانے کی کوشش پر دونوں کے درمیان اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے۔ نتیجتاً بے نظیر بھٹو نے انہیں پارٹی کی صدارت سے ہٹا کر صاحبزادہ اسحاق ظفر کو پارٹی صدر مقرر کردیا۔
2006 کے انتخابات سے قبل بیرسٹر سلطان محمود نے اپنے ہم خیال رہنماؤں کے ساتھ پیپلز پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی اور ’پیپلز مسلم لیگ‘ کے نام سے نئی جماعت تشکیل دی۔ انہوں نے میاں نواز شریف سے قربت بڑھانے اور اپنی جماعت کو آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی نمائندہ جماعت تسلیم کروانے کی کوشش کی، تاہم وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔
اگرچہ 2006 کے انتخابات میں ان کی جماعت صرف 4 نشستیں حاصل کر سکی، لیکن پیپلز پارٹی کی شکست میں اس کا اہم کردار رہا، جس کے نتیجے میں مسلم کانفرنس تاریخ میں پہلی بار مسلسل دوسری مرتبہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔
پیپلز مسلم لیگ زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکی اور محض پانچ سال بعد 2011 کے انتخابات سے قبل بیرسٹر سلطان نے ایک بار پھر اپنی جماعت کو پیپلز پارٹی میں ضم کردیا۔ اس مرتبہ نہ انہیں پارٹی صدارت مل سکی اور نہ ہی انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیر اعظم کا منصب حاصل ہو سکا۔
2013 میں پاکستان میں میاں نواز شریف کی حکومت قائم ہونے کے دو ماہ بعد، جولائی میں بیرسٹر سلطان نے پیپلز پارٹی کے اندر اپنے حامیوں پر مشتمل فارورڈ بلاک بنا کر وزیراعظم چوہدری عبدالمجید کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ تاہم نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کو اس تحریک کی حمایت سے روک دیا، جس کے باعث تحریک ناکام ہو گئی اور بیرسٹر سلطان کو دوسری مرتبہ پیپلز پارٹی چھوڑنا پڑی۔
پیپلز پارٹی سے علیحدگی کے بعد انہوں نے ایک بار پھر میاں نواز شریف سے قربت بڑھانے کی کوشش کی، لیکن مثبت جواب نہ ملنے پر 2015 میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی اور آزاد کشمیر میں پارٹی کے صدر منتخب ہو گئے۔
2016 کے انتخابات میں ان کی قیادت میں پی ٹی آئی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ خود بھی اپنی آبائی نشست سے انتخاب ہار گئے۔
ان کے مقابل کامیاب ہونے والے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چوہدری سعید کو 2019 میں عدالت نے نااہل قرار دے دیا، جس کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات میں بیرسٹر سلطان محمود ایک مرتبہ پھر رکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہو گئے۔
25 جولائی 2021 کو منعقدہ عام انتخابات میں بیرسٹر سلطان محمود کی قیادت میں تحریک انصاف نے واضح کامیابی حاصل کی، جبکہ وہ مجموعی طور پر آٹھویں مرتبہ اسمبلی کی نشست جیتنے میں کامیاب رہے۔
2021 کے عام انتخابات کے بعد بیرسٹر سلطان ایک بار پھر وزیراعظم بننے میں ناکام رہے، تاہم ردعمل کے خدشے کے پیش نظر عمران خان نے انہیں صدر ریاست بنا دیا، اور ان کی نشست پر ان کے بیٹے یاسر سلطان کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ دیا گیا جو انتخاب جیت گئے۔
بعد ازاں چوہدری انوارالحق نے جب پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک بنایا تو بیرسٹر سلطان محمود کا گروپ بھی اس میں شامل ہوگیا، اور پھر 2025 میں چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے وقت بیرسٹر سلطان کا گروپ ایک بار پھر پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ بن گیا۔
مزید پڑھیں: آپ غیرمشروط پیپلز پارٹی میں شامل ہوں: آصف زرداری کا بیرسٹر سلطان گروپ کو پیغام
بیرسٹر سلطان محمود کچھ عرصے سے علیل ہونے کے باعث سیاسی سرگرمیوں سے دور ہوگئے تھے، اور اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں ان کا انتقال ہوگیا۔
1985 سے 2021 تک کے سیاسی سفر میں بیرسٹر سلطان محمود نے مجموعی طور پر 10 انتخابات میں حصہ لیا، جن میں سے صرف 2 مرتبہ انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔













