نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ 4300 ایکڑ رقبے پر محیط پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا ہوائی اڈہ ہے اور اس پر مختلف قسم کے طیارے لینڈ اور ٹیک آف کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: نیوگوادرانٹرنیشنل ایئرپورٹ تجارت اور رابطوں کو آسان بنانے میں مصروف عمل
ان طیاروں میں اے ٹی آر 72، بوئنگ 737، بوئنگ 747 اور ایئر بس اے 380 شامل ہیں۔
اس ایئرپورٹ کی توسیع گوادر کو تجارتی، رابطہ کاری اور سرمایہ کاری کے لیے ایک علاقائی مرکز میں تبدیل کرنے کے عمل میں اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
کراچی سے آنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 503 کی کامیاب لینڈنگ کے بعد 2025 میں نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تجارتی پروازوں کا باقاعدہ آغاز جو جو بلوچستان کی ترقی کے نئے مرحلے کی علامت ہیں۔
جیسے جیسے ہوائی نقل و حمل میں اضافہ ہوگا اور بین الاقوامی دلچسپی بڑھے گی، نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ صوبے میں اقتصادی سرگرمیوں کو تیز کرے گا، روزگار کے مواقع پیدا کرے گا اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرے گا۔
یہ ایئرپورٹ پاکستان کو عالمی مارکیٹوں تک بہتر رسائی فراہم کرکے گوادر کو تجارتی اور ٹرانزٹ کے اہم مرکز کے طور پر مستحکم کرتا ہے۔
یہ تیز رفتار ترقی بھی وضاحت کرتی ہے کہ کیوں دشمن قوتیں، خاص طور پر فتنہ الہندوستان اور ان کے مقامی ایجنٹس بلوچستان میں ترقی کے مخالف ہیں۔
مزید پڑھیں: نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہلی پرواز لینڈ کر گئی، وزیر دفاع خواجہ آصف نے مسافروں کا استقبال کیا
ان عناصر کا مقصد حقوق یا فلاح نہیں بلکہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا اور مقامی عوام کو جدید بنیادی ڈھانچے، اقتصادی مواقع اور بہتر معیارِ زندگی سے محروم رکھنا ہے۔
نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ اس منصوبے کے برعکس ترقی، یکجہتی اور خوشحالی کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔














