جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے آئندہ ہونے والے تیرہویں قومی پارلیمانی انتخابات کو بنگلہ دیش کے لیے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 12 فروری کا ووٹ ملک کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
اتوار کی صبح جامع پور کے سنگھجانی ہائی اسکول گراؤنڈ میں گیارہ جماعتی انتخابی اتحاد کی مشترکہ عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہاکہ یہ انتخابات برسوں کے ظلم و ستم اور قربانیوں کے بعد آرہے ہیں، جن میں سینکڑوں جانیں گئیں، اور ہزاروں افراد زخمی ہوئے، لیکن آمرانہ حکمرانی کے تاریک دور کا خاتمہ ہوا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش انتخابات: اے بی پارٹی نے مختلف راستہ اختیار کرنے کا عندیہ دے دیا
انہوں نے زور دیا کہ ان انتخابات کو 2008، 2014، 2018 اور 2024 میں ہونے والے انتخابات سے مختلف نظر سے دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے اسے ’فاشسٹ سیاست‘ کو دفن کرنے کا موقع قرار دیا۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے ووٹرز سے کہاکہ اصلاحات اور قومی تجدید کے حق میں ووٹ دیں۔
انہوں نے غیر واضح مؤقف رکھنے والی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں واضح طور پر بتانے کے لیے چیلنج کیاکہ آیا وہ اصلاحات اور نئے سیاسی نظام کی حمایت کرتی ہیں یا نہیں۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہاکہ جماعت اسلامی اور اس کے اتحادی ملک بھر میں اصلاحات اور جوابدہی کے حق میں کھلے عام مہم چلا رہے ہیں اور دوسروں سے بھی شفافیت کا مطالبہ کیا۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے زور دیا کہ یہ تحریک کسی جماعت کی فتح کے لیے نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے 1.8 کروڑ عوام کی کامیابی کے لیے ہے۔
انہوں نے 2024 کی نوجوان قیادت والی احتجاجی تحریکوں کے دوران اٹھائے گئے مطالبات اجاگر کیے، جن میں امتیاز ختم کرنا، روزگار پیدا کرنا، قانون کی حکمرانی اور بدعنوانی سے پاک ملک شامل ہیں۔
انہوں نے ماضی میں شہید ہونے والے طلبہ اور کارکنوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہاکہ ان کی قربانیاں ضائع نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندے سالانہ اپنے اور اپنے اہل خانہ کے مالی گوشوارے پیش کریں گے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں انتخابات سے قبل مسلح افواج کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم
خواتین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گھر، کام کی جگہ اور عوامی زندگی میں سیکیورٹی، وقار اور مساوی مواقع دینے کا وعدہ کیا اور کہا کہ خواتین کو انصاف اور میرٹ کی بنیاد پر حقوق ملیں گے۔
انہوں نے مذہبی اقلیتوں کو یقین دلایا کہ مذہب، نسل، زبان یا شکل کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہوگا اور اتحاد برقرار رکھا جائے گا۔













