۔
پاکستان کے طاقتور ترین سیاسی خاندان پر لرزہ طاری کرنے والی یادداشت کی اشاعت کے 15 برس بعد، معروف مصنفہ اور سماجی کارکن فاطمہ بھٹو ایک بار پھر خبروں کی زینت ہیں۔
اس مرتبہ وہ ایک نہایت ذاتی، دردناک اور سچ پر مبنی کہانی کے ساتھ قارئین سے رابطہ کررہی ہیں، جس میں وہ تشدد، بقا اور ازسرِنو زندگی کی داستان بیان کرتی ہیں۔
فاطمہ بھٹو کی آئندہ شائع ہونے والی یادداشت ’دی آور آف دا وولف‘ ایک ایسے رشتے کی تفصیل بیان کرتی ہے جو ان کے بقول ایک دہائی سے زائد عرصے تک جبر، ذہنی تشدد اور استحصال پر مبنی رہا۔
یہ بھی پڑھیں: فاطمہ بھٹو کے ہاں بیٹے کی پیدائش، نام مرتضیٰ بھٹو رکھ دیا
وہ لکھتی ہیں کہ انہوں نے اس تعلق کو طویل عرصے تک خاموشی سے برداشت کیا کیونکہ وہ اسے محبت سمجھتی رہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ فاطمہ بھٹو نے اس تعلق پر عوامی سطح پر کھل کر بات کی ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فاطمہ بھٹو نے کہا کہ وہ واقعی یہ کتاب لکھنا نہیں چاہتی تھیں۔
Fatima Bhutto reveals her new memoir The Hour of the Wolf explores a coercive relationship she was deeply ashamed of. She says writing it was necessary to fix herself and help others trapped in silence. #FatimaBhutto #TheHourOfTheWolf #Memoir #CoerciveControl #OurGlobeMedia pic.twitter.com/mwTTsUODpE
— Our Globe Media (@OurGlobeMedia) January 29, 2026
’مجھے شرمندگی محسوس ہو رہی تھی، جھجک تھی۔ لیکن میں یہ بھی جانتی ہوں کہ اگر میں نے اس نوعیت کی کوئی تحریر پہلے پڑھی ہوتی تو شاید اس سے مجھے مدد ملتی۔‘
فاطمہ بھٹو پاکستان کے معروف سیاسی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی بھتیجی ہیں۔
انہیں عالمی سطح پر شہرت 2010 میں شائع ہونے والی ان کی یادداشت ’سونگس آف بلڈ اینڈ سورڈ‘ سے ملی، جس میں انہوں نے بھٹو خاندان کی تاریخ کا ازسرنو جائزہ لیتے ہوئے اپنے والد مرتضیٰ بھٹو کے قتل کی ذمہ داری جزوی طور پر بینظیر بھٹو پر بھی عائد کی تھی۔
مزید پڑھیں: مشکل دور، خاموشی اور شرمندگی: اپنی ذاتی زندگی پر فاطمہ بھٹو کی مزید لب کشائی
اپنی یادداشتوں پر مشتمل نئی کتاب میں میں فاطمہ بھٹو بیان کرتی ہیں کہ 2011 میں نیویارک میں اپنی پہلی کتاب کی تشہیری مہم کے دوران ان کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی۔
جسے وہ کتاب میں صرف ’دا مین‘ یعنی صرف ایک آدمی کے نام سے یاد کرتی ہیں۔ وہ اس شخص کو ’خوداعتماد، بے باک، پرکشش، روایتی مردانگی کا حامل اور آزاد روح‘ قرار دیتی ہیں۔
یہ تعلق زیادہ تر طویل فاصلے پر مشتمل رہا اور 11 برس تک جاری رہا، فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں کہ یہ رشتہ ان کے صحافتی کام، ناول نگاری اور ادبی میلوں کے باعث مسلسل سفر سے ہم آہنگ تھا۔
مزید پڑھیں: فاطمہ بھٹو کے ساتھ مل کر نئی سیاسی جماعت قائم کرکے لیاری سے الیکشن لڑوں گا، ذوالفقار بھٹو جونیئر
تاہم وقت کے ساتھ ان کا ساتھی حد سے زیادہ کنٹرول کرنے والا ہو گیا اور اس کے رویے میں دلکشی اور سفاکی باری باری سامنے آنے لگی۔
ان کے مطابق اس شخص کا رویہ زبانی بدسلوکی، عوامی مقامات پر تذلیل، اور طویل خاموشی و حقارت پر مشتمل تھا۔
فاطمہ بھٹو کہتی ہیں کہ وہ اچانک دلکش انسان سے شیطانی روپ اختیار کر لیتا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس نے آہستہ آہستہ انہیں دوستوں اور عام سماجی زندگی سے کاٹ دیا۔
فاطمہ بھٹو کے مطابق انہوں نے کئی برس تک اس تعلق کو تشدد آمیز اس لیے نہیں سمجھا کیونکہ یہ جسمانی نوعیت کا نہیں تھا۔
’میں نے ہمیشہ عورتوں کی کہانیاں پڑھی تھیں جنہیں مردوں نے خطرناک حالات میں ڈال دیا، لیکن مجھے کبھی لگا ہی نہیں کہ میں ان میں سے ایک ہوں، کیونکہ یہ جسمانی تشدد نہیں تھا۔‘
مزید پڑھیں: ’آؤ ایک کتاب خرید کر غزہ کے بچوں کی مدد کریں، فاطمہ بھٹو سمیت دنیا کے معروف مصنفین کی مہم جاری
تاہم کتاب میں وہ ایک واقعہ بیان کرتی ہیں جس میں اس شخص نے ان کی انگلی اتنی زور سے کاٹی کہ اعصابی نقصان ہو گیا۔
فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں کہ ایسے 11 برس گزارنے کا واحد طریقہ یہ تھا کہ اسے ایک محبت کی کہانی سمجھا جائے۔
’آپ خود کو یقین دلاتے رہتے ہیں کہ یہ سب آپ کو مستقبل کی کسی بڑی کامیابی کے لیے مضبوط بنا رہا ہے۔‘
مزید پڑھیں: فاطمہ بھٹو کا پاکستانیوں کو اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مشورہ
وہ بتاتی ہیں کہ اس تعلق میں رازداری مرکزی حیثیت رکھتی تھی، ان کے ساتھی نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ یہ رشتہ پوشیدہ رہے۔
’انہیں دوستوں اور خاندان سے ملانے سے روکا گیا اور ایک ہی شہر میں اکٹھا زندگی گزارنے کی حوصلہ شکنی کی گئی۔‘
یہ تعلق 2021 میں اس وقت ختم ہوا جب فاطمہ بھٹو، جو اس وقت 39 برس کی تھیں، اس نتیجے پر پہنچیں کہ یہ شخص کبھی اس خاندانی زندگی کا عہد نہیں کرے گا جس کی وہ خواہش رکھتی تھیں۔

بعد ازاں 2022 میں ان کی ملاقات گراہم نامی شخص سے ہوئی، جن سے شادی کے بعد 3 برس کے اندر ان کے 2 بچے ہوئے۔
اب اپنی فیملی کے ساتھ پُرسکون زندگی گزارنے والی فاطمہ بھٹو کہتی ہیں کہ انہوں نے یہ یادداشت محض ’سچ بیان کرنے‘ کے فیصلے کے بعد لکھی۔
’۔۔۔پھر یہ سب مجھ سے یوں نکل آیا کہ جیسے بہہ نہیں رہا بلکہ گر رہا ہو۔‘
مزید پڑھیں: جب ایک صحافی نے زخمی میر مرتضیٰ بھٹو کو اسپتال پہنچایا
فاطمہ بھٹو کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ اس تجربے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئیں، لیکن وہ جانتی ہیں کہ وہ اس چیز سے بچ نکلیں جو انہیں مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے کی گئی تھی۔
فاطمہ بھٹو، مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی اور ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی ہیں، جو 1970 کی دہائی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور وزیراعظم رہے۔
1985 میں ان کے چچا شاہنواز بھٹو فرانس کے شہر نیس میں پراسرار طور پر مردہ پائے گئے، اور خاندان کا ماننا ہے کہ انہیں زہر دیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: مشکل دور، خاموشی اور شرمندگی: اپنی ذاتی زندگی پر فاطمہ بھٹو کی مزید لب کشائی
1982 میں پیدا ہونے والی فاطمہ بھٹو نے ابتدائی بچپن کراچی میں گزارا، مگر بعد ازاں شاہنواز بھٹو کی موت کے بعد اپنے والد کے ساتھ شام میں جلاوطنی کی زندگی گزاری۔
وہ لکھتی ہیں کہ ان کی 2010 کی یادداشت دراصل ان کے والد کے لیے ایک خراجِ عقیدت تھی، جن سے وہ بے حد محبت کرتی تھیں۔
انہوں نے اپنے بچپن کو راز داری، اچانک نقل مکانی اور مستقل خطرے کے احساس سے بھرپور قرار دیا۔
’مجھے کم عمری میں ہی سیکھنا پڑا کہ خاموشی اور رازداری کیوں ضروری ہیں اور یہ کیفیت آج تک میرے ساتھ ہے۔‘
مزید پڑھیں: فاطمہ بھٹو کی نئی کتاب: بے چینی، رشتوں کی پیچیدگیوں اور پالتو جانور کی محبت کے قصے
فاطمہ بھٹو نے واضح کیا کہ ان کی پرورش نے انہیں سیاست کی طاقت سے مرعوب ہونے کے بجائے اس سے محتاط بنا دیا۔
’طاقت مجھے اپنی طرف کھینچتی نہیں بلکہ بے چین کرتی ہے۔ میں اس کے خطرات سے اچھی طرح واقف ہوں۔‘
اگرچہ انہوں نے سیاست میں آنے کا امکان رد کر دیا ہے، تاہم وہ بطور مصنفہ اور کارکن سرگرم ہیں۔













