وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی اہم ملاقات اختتام پذیر ہو گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد یہ سہیل آفریدی کی وزیر اعظم سے پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔
یہ ملاقات وزیر اعظم ہاؤس میں منعقد ہوئی، جس میں ملکی و صوبائی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تاہم وزیراعلیٰ کے بقول اس دوران سیاسی معاملات زیر بحث نہیں آئے۔
یہ بھی پڑھیے: وفاقی فنڈز کی عدم ادائیگی: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا وزیراعظم کو باضابطہ خط
وفاقی حکومت کی جانب سے رانا ثنا اللہ، محسن نقوی، امیر مقام، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ہمراہ صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم ملاقات میں شریک تھے۔
خیبرپختونخوا کے فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم کے سامنے خیبرپختونخوا کے این ایف سی میں واجب الادا فنڈز جاری کرنے کا معاملہ رکھا، اس کے ساتھ ساتھ آپریشن کی مد میں 4 ارب روپے بھی جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ صوبے کے مسائل اور دہشتگردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل بنانے پر بات ہوئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی pic.twitter.com/uMLKG4DDbu
— WE News (@WENewsPk) February 2, 2026
ان کے مطابق، وزیر اعظم شہباز شریف نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال کو ہدایت کی ہے کہ وہ صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم کے ساتھ بیٹھ کر مسئلے کا جائزہ لیں اور قابلِ عمل حل نکالیں، ان معاملات پر مزید 2، 3 ملاقاتیں ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیے: مجھے نااہل کرانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا دعویٰ
وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ ملاقات میں سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو ہوئی البتہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی، ملاقات میں کوئی بھی سیاسی بات نہیں ہوئی، صرف وفاق و صوبے کے مابین معاملات، مالی مسائل اور سیکیورٹی کے معاملات زیر بحث آئے۔
صوبائی حکومت آئینی ذمہ داریاں نبھائے، وزیراعظم
وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں صوبے کی ترقی، عوام کی خوشحالی اور امن و امان کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان تعاون پر زور دیا گیا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کے تعاون کو ناگزیر قرار دیا جاتا ہے اور صوبائی حکومت کی انسداد دہشت گردی کی کوششیں مزید بڑھائی جائیں۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم سے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنماؤں کی ملاقات
انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گی۔ وزیرِ اعظم نے صوبائی حکومت کو تاکید کی کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں خاص طور پر صحت اور تعلیم کے شعبوں میں، نبھاتے ہوئے عوامی فلاح کے لیے اقدامات کرے۔
خیبر پختونخوا میں افواجِ پاکستان، CTD اور عوام دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے رہے ہیں۔ تمام لوگوں کو ان قربانیوں کا احساس کرنا چاہیے اور ایسی گفتگو سے گریز کرنا چاہیے جس سے ان کی دل آزاری ہو، وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی pic.twitter.com/oUe2usnRI2
— WE News (@WENewsPk) February 2, 2026
وزیرِ اعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے اور صوبے کی عوام کی خوشحالی کے لیے وفاقی حکومت اپنے دائرہ اختیار کے مطابق بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔ قومی ترقی اور عوامی خدمت کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان قریبی روابط اور مؤثر رابطہ کاری ناگزیر ہیں۔
وزیرِ اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے وفاقی حکومت صوبے کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنے اور یکساں ترقی کے وژن پر عمل پیرا ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ باہمی مشاورت اور اشتراکِ عمل کے ذریعے قومی یکجہتی، استحکام اور خوشحالی کے اہداف کو مؤثر انداز میں حاصل کیا جا
ایک گھنٹہ جاری رہنے والی اس ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا چلے گئے۔













