وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی پہلی اہم ملاقات، کیا کچھ زیر بحث آیا؟

پیر 2 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی اہم ملاقات اختتام پذیر ہو گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد یہ سہیل آفریدی کی وزیر اعظم سے پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔

یہ ملاقات وزیر اعظم ہاؤس میں منعقد ہوئی، جس میں ملکی و صوبائی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تاہم وزیراعلیٰ کے بقول اس دوران سیاسی معاملات زیر بحث نہیں آئے۔

یہ بھی پڑھیے: وفاقی فنڈز کی عدم ادائیگی: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا وزیراعظم کو باضابطہ خط

وفاقی حکومت کی جانب سے رانا ثنا اللہ، محسن نقوی، امیر مقام، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ہمراہ صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم ملاقات میں شریک تھے۔

خیبرپختونخوا کے فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم کے سامنے خیبرپختونخوا کے این ایف سی میں واجب الادا فنڈز جاری کرنے کا معاملہ رکھا، اس کے ساتھ ساتھ آپریشن کی مد میں 4 ارب روپے بھی جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

ان کے مطابق، وزیر اعظم شہباز شریف نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال کو ہدایت کی ہے کہ وہ صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم کے ساتھ بیٹھ کر مسئلے کا جائزہ لیں اور قابلِ عمل حل نکالیں، ان معاملات پر مزید 2، 3 ملاقاتیں ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیے: مجھے نااہل کرانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا دعویٰ

وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ ملاقات میں سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو ہوئی البتہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی، ملاقات میں کوئی بھی سیاسی بات نہیں ہوئی، صرف وفاق و صوبے کے مابین معاملات، مالی مسائل اور سیکیورٹی کے معاملات زیر بحث آئے۔

صوبائی حکومت آئینی ذمہ داریاں نبھائے، وزیراعظم

وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں صوبے کی ترقی، عوام کی خوشحالی اور امن و امان کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان تعاون پر زور دیا گیا۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کے تعاون کو ناگزیر قرار دیا جاتا ہے اور صوبائی حکومت کی انسداد دہشت گردی کی کوششیں مزید بڑھائی جائیں۔

یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم سے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنماؤں کی ملاقات

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گی۔ وزیرِ اعظم نے صوبائی حکومت کو تاکید کی کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں خاص طور پر صحت اور تعلیم کے شعبوں میں، نبھاتے ہوئے عوامی فلاح کے لیے اقدامات کرے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے اور صوبے کی عوام کی خوشحالی کے لیے وفاقی حکومت اپنے دائرہ اختیار کے مطابق بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔ قومی ترقی اور عوامی خدمت کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان قریبی روابط اور مؤثر رابطہ کاری ناگزیر ہیں۔

وزیرِ اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے وفاقی حکومت صوبے کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنے اور یکساں ترقی کے وژن پر عمل پیرا ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ باہمی مشاورت اور اشتراکِ عمل کے ذریعے قومی یکجہتی، استحکام اور خوشحالی کے اہداف کو مؤثر انداز میں حاصل کیا جا

ایک گھنٹہ جاری رہنے والی اس ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا چلے گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لاہور: بسنت کے دوران ایئرپورٹ کے اطراف پتنگ بازی پر پابندی

لاہور میں بسنت فیسٹیول کے لیے جامع حفاظتی اقدامات

اسلامی فوجی انسداد دہشتگردی اتحاد کے سیکریٹری جنرل کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات

لیبیا کی مسلح افواج کے نائب کمانڈر کی فضائیہ سربراہ سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط کرنے پر تبادلہ خیال

کراچی میں ریلی نکالنے پر امیر جماعت اسلامی منعم ظفر سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج

ویڈیو

سہیل آفریدی کس پی ٹی آئی رہنما کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں ہیں؟

محمود خان اچکزئی کا عمران خان کی صحت پر دوٹوک مؤقف، پی ٹی آئی کے بیانیے پر سوالات

دھات کی تاروں پر اظہار جذبات ذہنی بحالی کا ذریعہ، نوجوان آرٹسٹ کی منفرد کہانی

کالم / تجزیہ

بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ رو رہے تھے

دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں

وفاق اور گل پلازہ