جمہوریت اور انسانی حقوق کے مطالبات سے توبہ، امریکا نے 3 افریقی ممالک کے لیے نئی پالیسی وضع کرلی

پیر 2 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روس کے ساتھ دفاعی تعلقات استوار کرنے والی مغربی افریقہ کی 3 فوجی حکومتوں کے حوالے سے امریکا نے اپنی پالیسی میں نمایاں تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق افریقی امور کے بیورو کے سربراہ نک چیکر مالی کے دارالحکومت باماکو کا دورہ کریں گے، جہاں وہ مالی کی خودمختاری کے احترام اور دوطرفہ تعلقات میں ’نئے باب‘ کے آغاز کا پیغام دیں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا مالی کے ساتھ تعلقات میں ’ماضی کی پالیسی غلطیوں سے آگے بڑھنا‘ چاہتا ہے۔ بیان کے مطابق امریکا نہ صرف مالی بلکہ اس کے اتحادی ممالک برکینا فاسو اور نائجر کے ساتھ بھی سیکیورٹی اور معاشی مفادات پر تعاون کا خواہاں ہے۔

جمہوریت اور انسانی حقوق ایجنڈے سے غائب

نئی امریکی پالیسی میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا ذکر نمایاں طور پر غائب ہے۔
یاد رہے کہ 2020 سے 2023 کے دوران ان تینوں ممالک میں فوجی بغاوتوں کے نتیجے میں منتخب حکومتیں معزول ہوئیں، جس کے بعد بائیڈن انتظامیہ نے فوجی تعاون معطل کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ نائجر کے معزول صدر محمد بازوم تاحال نظر بندی میں ہیں۔

ٹرمپ کی واپسی کے بعد پالیسی میں واضح تبدیلی

امریکی مؤقف میں یہ تبدیلی اس وقت سے واضح ہونا شروع ہوئی جب ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ وائٹ ہاؤس پہنچے۔ ان کے حلف اٹھانے کے چند دن بعد ہی USAID کو بند کر دیا گیا، جو خطے میں ترقیاتی معاونت کا اہم ذریعہ تھا۔ بعد ازاں امریکی پالیسی میں ترقی اور گورننس کے بجائے سیکیورٹی اور معدنی وسائل کو مرکزی حیثیت دی گئی۔

روس مخالف بیانیے سے امریکا پیچھے ہٹ گیا

ٹرمپ انتظامیہ روسی فوجی موجودگی کو نہ تو انسانی حقوق کے لیے خطرہ سمجھتی ہے اور نہ ہی علاقائی استحکام کے لیے۔ روس نے مالی میں تقریباً 1,000 سیکیورٹی کنٹریکٹرز تعینات کر رکھے ہیں، جبکہ برکینا فاسو اور نائجر میں بھی روسی فوجی یا کرائے کے جنگجو موجود ہیں۔

اگرچہ روسی فورسز پر بالخصوص مالی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں، تاہم واشنگٹن نے اس پر سخت ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا نہیں چاہتا کہ مالی، نائجر اور برکینا فاسو میں روس واحد دفاعی شراکت دار بن کر ابھرے۔
اسی لیے امریکا ان ممالک کے ساتھ محدود مگر فعال سیکیورٹی تعاون برقرار رکھنا چاہتا ہے، جس میں انٹیلی جنس معلومات اور ممکنہ ہتھیاروں کی فراہمی شامل ہو سکتی ہے۔

ساحل (Sahel) کا خطہ، جو صحارا کے جنوب میں واقع ہے، اب دنیا میں دہشتگردی سے ہونے والی تقریباً نصف اموات کا مرکز قرار دیا جا رہا ہے۔
خصوصاً مالی، برکینا فاسو اور نائجر کے سرحدی علاقے میں اسلامک اسٹیٹ گریٹر سہارا (ISGS) سرگرم ہے۔ گزشتہ ہفتے نائجر کے دارالحکومت نیامی کے ہوائی اڈے پر حملہ اس خطرے کی تازہ مثال ہے۔

معدنی وسائل بھی امریکی تشویش کی بڑی وجہ

یہ خطہ سونے، لیتھیم اور یورینیم جیسے اہم معدنی وسائل سے مالا مال ہے۔
نائجر کی فوجی حکومت نے فرانس کی کمپنی اورانو سے یورینیم کان کا کنٹرول واپس لے کر روس کو نیا شراکت دار بنانے کا عندیہ دیا ہے۔

امریکا واضح کر چکا ہے کہ وہ نہ تو فوجی اڈے دوبارہ کھولے گا اور نہ ہی بڑی تعداد میں فوج تعینات کرے گا۔ نائجر کے شہر اگاڈیز میں قائم امریکی ڈرون بیس پہلے ہی بند ہو چکا ہے، جہاں کبھی 800 امریکی فوجی موجود تھے۔

فوجی حکومتوں نے انتخابات کے دباؤ پر ECOWAS سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اور اب Alliance of Sahel States (AES) کے نام سے اپنا نیا اتحاد بنا رہی ہیں۔

اس کے بعد ECOWAS پر ان ممالک کی اندرونی گورننس سے متعلق کوئی ذمہ داری باقی نہیں رہی۔

صرف فوجی طاقت کافی نہیں

ماہرین کے مطابق امریکا کی انٹیلی جنس اور ہتھیار وقتی کامیابیاں تو دے سکتے ہیں، مگر فرانس کی ایک دہائی پر محیط فوجی مداخلت کی طرح صرف عسکری حل خطے میں امن بحال نہیں کر سکتا، جب تک غربت، سماجی عدم مساوات اور معاشی بحران جیسے بنیادی مسائل حل نہ کیے جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں فیکٹری میں آتشزدگی

زیتون کا تیل اور ہڈیوں کا سوپ: کیا سوشل میڈیا پر وائرل غذائیں واقعی مؤثر ہیں؟

اسلام آباد مسجد حملہ، بھارت کا اظہارِ افسوس

مکہ مکرمہ میں شہری ترقی کے حالیہ اقدامات نے معیار زندگی مزید بہتر بنادیا

اسلام آباد سانحہ، پی ٹی آئی کا وفاقی حکومت کی ناکامیوں پر استعفوں اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

ویڈیو

اسلام آباد امام بار گاہ میں خود کش دھماکا بھارت کی سرپرستی میں کیا گیا، وزیر مملکت برائے داخلہ کی میڈیا سے گفتگو

امریکا ایران کشیدگی: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے واشنگٹن کو کیا پیغام دیا؟

لاہور میں بسنت کے تہوار پر تاریخی جشن

کالم / تجزیہ

پاکستان کا پیچا!

’کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو‘

مغربی تہذیب کا انہدام!