انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی طلب اور صارفین کو بہتر سروس فراہم کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے 200 فیصد سے زائد اضافی اسپیکٹرم نیلام کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیر مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ نے قومی اسمبلی کو تحریری جواب میں اس فیصلے سے آگاہ کیا۔
شزہ فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں مجموعی طور پر 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم دستیاب ہے جو موجودہ انٹرنیٹ طلب کے لیے ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اسپیکٹرم الاٹمنٹ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ترین سطح پر ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایلون مسک کا وینزویلا کے لیے مفت اسٹارلنک انٹرنیٹ فراہم کرنے کا اعلان
وزیر آئی ٹی کے مطابق حکومت سیلولر موبائل آپریٹرز کے لیے تقریباً 600 میگا ہرٹز اضافی اسپیکٹرم جاری کرے گی، جس کی نیلامی 700، 1800، 2100، 2300، 2600 اور 3500 میگا ہرٹز بینڈز میں کی جائے گی۔ اضافی اسپیکٹرم کی نیلامی ریگولیٹری اور پالیسی تقاضے مکمل ہونے کے بعد عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں سست انٹرنیٹ کی بنیادی وجوہات میں رش کے اوقات، فائبر کی کمی اور بیک ہال کے مسائل شامل ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) موبائل سروسز کے معیار کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں ’ڈیجیٹل ڈیٹا ایکسچینج‘ بنا رہے ہیں، وفاقی وزیر شزہ فاطمہ
شزہ فاطمہ خواجہ کا کہنا تھا کہ اضافی اسپیکٹرم کی فراہمی سے نیٹ ورک کنجیشن میں نمایاں کمی متوقع ہے جبکہ صارفین کو بہتر کوالٹی آف ایکسپیرینس فراہم کی جا سکے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل نیشن وژن کے تحت 3G اور 4G سروسز کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے، جبکہ اضافی اسپیکٹرم اور فائبر نیٹ ورک کی توسیع مستقبل میں 5G ٹیکنالوجی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔














