بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ اور ان کی بھانجی برطانیہ کی لیبر پارٹی رکن پارلیمنٹ ٹیولپ صدیق کو کرپشن کے ایک مقدمے میں عدالت نے قید کی سزا سنا دی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کا شیخ حسینہ کو تقریر کی اجازت پر بھارت کے خلاف سخت ردعمل، خبردار کردیا
بنگلہ دیش کے انسدادِ بدعنوانی ادارے کے مطابق شیخ حسینہ نے سرکاری اہلکاروں کے ساتھ مل کر ڈھاکا کے بڑے رہائشی منصوبے پرباچل نیو ٹاؤن پروجیکٹ میں اپنے اور اہلخانہ کے لیے غیر قانونی طور پر زمین کے 6 پلاٹس حاصل کیے۔ اس منصوبے میں 25 ہزار سے زائد رہائشی پلاٹس شامل ہیں۔
عدالتی فیصلہ اور سزائیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے شیخ حسینہ کو 10 سال قید جبکہ ٹیولپ صدیق کو 4 سال قید کی سزا سنائی۔
اسی کیس میں شیخ حسینہ کے 2 دیگر رشتہ داروں، عزمینہ صدیق اور رادوان مجیب صدیق کو بھی 7، 7 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔
لیبر پارٹی کا ردعمل
فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے لیبر پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ پارٹی اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتی۔
مزید پڑھیے: حسینہ واجد عام انتخابات میں بھاری کامیابی کیسے حاصل کرتی رہیں؟
ترجمان کے مطابق سینیئر قانونی ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ ٹیولپ صدیق کو اس مقدمے میں منصفانہ قانونی عمل تک رسائی حاصل نہیں رہی اور انہیں الزامات کی مکمل تفصیلات سے بھی آگاہ نہیں کیا گیا۔
ٹیولپ صدیق کا مؤقف
ٹیولپ صدیق نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے اپنی خالہ کے دور حکومت میں کبھی کوئی سرکاری زمین حاصل نہیں کی اور نہ ہی انہوں نے اپنی والدہ یا بہن بھائیوں کے لیے زمین دلوانے کی کوئی کوشش کی۔
شیخ حسینہ کے خلاف دیگر مقدمات
واضح رہے کہ شیخ حسینہ اس سے قبل بھی کرپشن کے متعدد مقدمات میں سزا یافتہ قرار دی جا چکی ہیں جن میں پرباچل منصوبے سے متعلق 47 کیسز میں مجموعی طور پر 26 سال قید شامل ہے۔
مزید پڑھیں: وائٹ پیپر جاری: حسینہ واجد دور میں ٹیلی کام بدانتظامی اور بدعنوانی بے نقاب
علاوہ ازیں ان پر ایک سابقہ طلبہ تحریک کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات بھی عائد ہیں جن میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا اور ایک مقدمے میں انہیں سزائے موت بھی سنائی جا چکی ہے۔














