وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا قبائل کے ہمراہ اسلام آباد مارچ کا اعلان، مقصد کیا ہے؟

منگل 3 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے آبائی ضلع خیبر میں قبائلی مسائل کے حل کے لیے سیاسی حریف وفاقی حکومت کے ساتھ بیٹھنے کا اعلان کیا ہے، وہیں قبائل کو لے کر اسلام آباد مارچ کا بھی عندیہ دیا ہے۔

قبائلی جرگے سے اپنے جذباتی خطاب میں سہیل آفریدی نے وفاق کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ قبائل کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے، اسی جرگے میں وزیراعظم سے ملاقات کے اعلان کے مطابق گزشتہ روز یعنی پیر کو اسلام آباد میں وزیراعظم سے ملاقات بھی کی۔

’اسلام آباد مارچ کے لیے قبائل کا دورہ کروں گا‘

سہیل آفریدی نے کہا کہ قبائلی مسائل اور تیراہ آپریشن پر قبائلی اقوام کے شدید تحفظات ہیں، اور اسی پر تمام قبائلی علاقوں میں جا کر جرگے کیے جائیں گے تاکہ اسلام آباد مارچ کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔

’آپ کے حقوق کے لیے میں آپ سب کو لے کر اسلام آباد جانے کے لیے لائحہ عمل بناؤں گا۔‘

سہیل آفریدی چاہتے کیا ہیں؟

تجزیہ کاروں اور سیاست پر گہری نظر رکھنے والے صحافیوں کے مطابق سہیل آفریدی سیاسی کھیل کے ذریعے وفاق اور مقتدر حلقوں پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں، ان کے مطابق اس وقت پی ٹی آئی کی سیاست شدید کنفیوژن کا شکار ہے اور سہیل آفریدی ایک نہیں بلکہ کئی محاذوں پر الجھے ہوئے ہیں۔

پشاور میں ایک نجی ٹی وی چینل کے بیورو چیف سینیئر صحافی طارق وحید سمجھتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جارحانہ سیاست اور رویّوں کے باعث پی ٹی آئی کی سیاست میں کنفیوژن موجود ہے اور اس کمزوری کے ساتھ وفاقی حکومت بھی کھیل رہی ہے، ساتھ ہی صوبائی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی

طارق وحید کے مطابق موجودہ صورتحال میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ایک یا 2 نہیں بلکہ 3 راہوں پر کھڑے ہیں، ایک طرف اپنے قائد عمران خان کی رہائی کی تحریک کا دباؤ، دوسرا دہشت گردی اور تیراہ کے مبینہ آپریشن کا چیلنج، اور تیسرا صوبے میں گورننس کا دباؤ، لہذا ایسے میں وزیراعلیٰ کی کنفیوژن غیر متوقع نہیں۔

’خاص طور پر تیراہ آپریشن سے پیدا شدہ صورتحال پر وفاقی حکومت اور مقتدر حلقوں کے دباؤ کو باؤنس بیک کرنے کے لیے اب وہ اس معاملے کو سیاسی اہداف اور وفاق پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور اسلام آباد مارچ کا اعلان یا اشارہ بھی اسی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔‘

’وفاق تیراہ نقل مکانی کی ذمہ داری قبول کرے‘

ضلع خیبر کے جرگے میں موجود نوجوان صحافی عبدالقیوم آفریدی کے مطابق وزیراعلیٰ کی وزیراعظم سے ملاقات سیاسی نہیں بلکہ صوبائی امور سے متعلق تھی، وزیراعلیٰ نے جرگے میں ریلیف فنڈ بنانے کا اعلان کیا اور مزمل اسلم کے ہمراہ شہباز شریف سے ملاقات کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ بات معاشی امور پر ہوئی ہے۔

انہوں  نے کہا کہ سیاسی ایشوز پر سہیل آفریدی نے مزید جرگوں اور قبائلی علاقوں کے دوروں کا بھی اعلان کیا ہے، جس کے بعد اسلام آباد مارچ کی حکمت عملی بنائی جائے گی۔ ’تیراہ نقل مکانی پر وزیراعلیٰ دباؤ میں ہیں کیونکہ یہ ان کا آبائی علاقہ ہے، جس سے ان کی بدنامی بھی ہو رہی ہے۔‘

مزید پڑھیں: تیراہ میں آپریشن جیسا حساس معاملہ وفاق پر ڈالنا گمراہ کن حکمت عملی ہے، اپوزیشن لیڈر خیبرپختونخوا اسمبلی

انہوں  نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی نے تیراہ نقل مکانی پر وفاق سے معافی کا مطالبہ بھی کیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ جرگہ کر کے متاثرین کو واپس لایا جائے گا۔ ’وفاق نے اس معاملے کی تمام تر ذمہ داری سہیل آفریدی کی حکومت پر ڈال دی ہے۔‘

ان کے مطابق سہیل آفریدی اب تیراہ معاملے پر سیاست کرنا چاہتے ہیں اور وفاق اور اداروں پر دباؤ ڈال کر اپنے مطالبات منوانا چاہتے ہیں۔

وزیراعلیٰ قبائل کی حمایت چاہتے ہیں‘

خیبر جرگے میں اس وقت واپس جانے کے سوال پر نفی میں جواب آیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بے گھر افراد کی جلد واپسی کے امکانات کم ہیں، صحافی قیوم آفریدی کے مطابق وزیراعلیٰ کو بھی اندازہ ہے کہ نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی فی الحال ممکن نہیں، جبکہ ان کے انتظامات بھی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہیں۔

مزید پڑھیں: گورنر خیبرپختونخوا نے وادی تیراہ سے عارضی انخلا کی صورتحال بارے قائم مقام صدر کو آگاہ کیا

’اسی وجہ سے وہ قبائل کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وفاق کے خلاف دباؤ پیدا کیا جا سکے، سہیل آفریدی نے وفاق کے خلاف محاذ کھول دیا ہے، اسٹریٹ موومنٹ اور قبائلی جرگے ایک طرف پارٹی ورکرز کو فعال کر رہے ہیں اور دوسری طرف قبائل کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

انہوں  نے کہا کہ سہیل آفریدی خود بھی قبائل سے تعلق رکھتے ہیں، اور انھیں اندازہ ہے کہ اگر قبائل کی حمایت حاصل ہو گئی تو احتجاج کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لاہور: بسنت کی آمد پر ٹریفک پولیس کی تیاریاں، 7 لاکھ موٹرسائیکلوں پر سیفٹی راڈز نصب

سینیئر اداکار راشد محمود یوٹیوبرز پر برس پڑے، قانونی کارروائی کی دھمکی دیدی

اسلام آباد نہیں آرہے، 8 فروری کو ہر چوک ڈی چوک ہو گا، پی ٹی آئی رہنما شہرام ترکئی

دلائی لاما کو گریمی ایوارڈ ملنے پر چین کی تنقید، ایوارڈ کو ’چین مخالف سیاسی ہتھیار‘ قرار دیدیا

’دھرندر 2‘ کی پہلی جھلک جاری، ٹریلر اور فلم کی ریلیز کب ہوگی؟

ویڈیو

دریائے راوی کی زمین پر بننے والے رہائشی منصوبے ختم کیے جائیں، راوی بچاؤ تحریک کا مطالبہ

لاہور میں بسنت کی تیاریاں جاری، پتنگوں سے پہلے ان کی قیمتیں آسمان پر

8 فروری: نوجوان بسنت منائیں گے یا ہڑتال کریں گے؟

کالم / تجزیہ

حادثے سے بڑا سانحہ

اگر جیفری ایپسٹین مسلمان ہوتا؟

بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ رو رہے تھے