کمسن لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ اور جنسی جرائم میں ملوث بدنام امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین نے ایک ویڈیو انٹرویو میں خود کو ‘شیطان’ قرار دینے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اعلیٰ درجے کا نہیں بلکہ ‘سب سے نچلے درجے’ کا جنسی مجرم تھا۔
اسی گفتگو کے دوران ایپسٹین نے دعویٰ کیا کہ اس نے پاکستان اور بھارت میں پولیو کے خاتمے کے لیے مالی معاونت فراہم کی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ سوال پوچھنے کے بجائے کہ بچوں کو ویکسین کے لیے یہ رقم دی جانی چاہیے تھی یا نہیں، ان ماؤں سے پوچھا جانا چاہیے جن کے بچوں کو یہ ویکسین ملی اور جو اب پولیو کا شکار نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: جیفری ایپسٹین فائلز میں نام آنے پر اہم برطانوی سیاستدان پارٹی رکنیت سے مستعفی
یہ انٹرویو حال ہی میں امریکی حکام کی جانب سے جاری کی گئی نئی دستاویزات اور فائلوں میں شامل کیا گیا ہے۔ تقریباً 2 گھنٹے طویل یہ انٹرویو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر اسٹیو بینن نے کیا تھا، جو بظاہر نیویارک میں ایپسٹین کے گھر پر کسی نامعلوم تاریخ کو ریکارڈ کیا گیا۔
انٹرویو کے دوران اسٹیو بینن نے ایپسٹین سے سوال کیا کہ آیا وہ خود کو شیطان سمجھتا ہے؟ اس پر ایپسٹین نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ‘نہیں، لیکن میرے پاس ایک اچھا آئینہ ضرور ہے’۔ دوبارہ سوال پر اس نے کہا کہ ‘مجھے نہیں معلوم، آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟’
ایپسٹین، جو 2008 میں کم عمر لڑکی سے جسم فروشی کروانے کے جرم میں اعترافِ جرم کر چکا تھا، نے اپنے جرائم کی سنگینی کو کم تر ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ جب بینن نے اسے امریکی درجہ بندی کے مطابق ‘کلاس تھری جنسی درندہ’ کہا، جو عوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ سمجھا جاتا ہے، تو ایپسٹین نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ‘نہیں، میں سب سے نچلے درجے پر ہوں’۔ تاہم جب بینن نے کہا کہ ‘لیکن مجرم تو ہو’ تو ایپسٹین نے جواب دیا کہ ‘ہاں’۔
یہ بھی پڑھیے: ایلون مسک اور جیفری ایپسٹین کے درمیان دوستانہ رابطوں کے شواہد منظرعام پر آگئے
انٹرویو میں ایپسٹین سے اس کی دولت کے ذرائع پر بھی سوال کیا گیا۔ بینن نے کہا کہ اس نے دنیا کے بدترین لوگوں کو مشورے دے کر پیسہ کمایا۔ اس پر ایپسٹین نے اصرار کیا کہ اس کی کمائی قانونی تھی، تاہم یہ بھی تسلیم کیا کہ ‘اخلاقیات ہمیشہ ایک پیچیدہ موضوع رہی ہیں’۔
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین 2019 میں نیویارک کی جیل میں اس وقت مردہ پایا گیا تھا جب وہ کمسن لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ کے مقدمے میں ٹرائل کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کی موت کو سرکاری طور پر خودکشی قرار دیا گیا تھا۔
حالیہ دنوں میں ایپسٹین اور اس سے متعلق سرکاری تحقیقات کی فائلیں بڑی تعداد میں جاری کی گئی ہیں، جن میں عالمی سطح پر سیاسی اور کاروباری شخصیات سے اس کے روابط بھی اجاگر کیے گئے ہیں۔














