نادرا کے ریکارڈ میں سنگین غلطی کا ایک انوکھا اور تشویشناک معاملہ سامنے آ گیا جس نے ایک خاندان کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک شہری کی بیوی کو سرکاری ریکارڈ میں مردہ ظاہر کر دیا گیا حالانکہ وہ حقیقت میں زندہ اور صحت مند ہے۔
متاثرہ شہری نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ نادرا کے ریکارڈ کے مطابق اس کی اہلیہ وفات پا چکی ہے، جبکہ وہ اس کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے۔ شہری نے جذباتی انداز میں سوال اٹھایا کہ اگر خدانخواستہ کوئی اس کی بیوی کو واقعی قتل کر دے تو وہ کس کو ذمہ دار ٹھہرائے گا اور انصاف کے لیے کس کے دروازے پر جائے گا، کیونکہ سرکاری ریکارڈ میں تو وہ پہلے ہی مردہ قرار دی جا چکی ہے۔
یہ پاکستان ھے 😑
نادرہ کے ریکارڈ کے مطابق میری بیوی مر چکی ہے جبکہ اصل میں وہ زندہ ہے
اگر کوئی اسے حقیقت میں مار دے تو میں کسے پکڑوں گا
ایک سائل نے محسن نقوی کے سامنے عجیب و غریب مسئلہ پیش کر دیا pic.twitter.com/lervARbWlM— Muzamil (@muzamil_45) February 2, 2026
شہری کا کہنا تھا کہ اس سنگین غلطی کے باعث نہ صرف اس کی اہلیہ کی قانونی شناخت ختم ہو چکی ہے بلکہ خاندان کو سماجی اور قانونی مسائل کا بھی سامنا ہے۔ اس معاملے نے نادرا کے ڈیٹا سسٹم، نگرانی کے طریقہ کار اور ادارہ جاتی غفلت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری تحقیقات اور ریکارڈ کی درستگی کی ہدایت کی، جبکہ شہری کو مکمل انصاف کی یقین دہانی بھی کرائی۔
یہ بھی پڑھیں: نادرا کا عجیب کارنامہ، زندہ خاتون کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کردیا، وزیر داخلہ کا نوٹس
نادرا جیسے حساس قومی ادارے میں اس نوعیت کی سنگین غلطی نے ایک بار پھر ڈیٹا کی درستگی اور شہریوں کی شناخت کے تحفظ پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کئی صارفین کا کہنا ہے کہ متاثرہ شہری کی خوش قسمتی تھی کہ اس کی براہِ راست ملاقات وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ہو گئی، بصورتِ دیگر نادرا کے ریکارڈ میں اس کی اہلیہ زندہ ہونے کے باوجود طویل عرصے تک مردہ ہی تصور کی جاتی رہتی۔














