’میک اِن انڈیا‘ کہاں گیا؟ امریکا سے تجارتی معاہدے پر کانگریس کی تنقید

منگل 3 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی نیشنل کانگریس نے منگل کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت پر امریکا کے ساتھ پیر کو طے پانے والے تجارتی معاہدے پر شدید تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاہدے کی تفصیلات کے بارے میں ملک کو اعتماد میں لے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو وزیر اعظم نریندر مودی سے گفتگو کے بعد بھارت کے ساتھ ایک ’تجارتی معاہدے‘ کا اعلان کیا تھا، ٹرمپ کے مطابق، نئی دہلی نے روسی تیل کی خریداری بند کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور اس کے بدلے وینزویلا سے تیل خرید سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مودی کے ناک رگڑنے کے بعد، ٹرمپ نے انڈیا کے لیے ٹیرف 18 فیصد کردیا

کانگریس نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ جس طرح جنگ بندی کا اعلان ہوا تھا، اسی طرح تجارتی معاہدے کا اعلان بھی امریکی صدر ٹرمپ نے کیا۔ ’یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ معاہدہ مودی کی درخواست پر کیا گیا ہے۔‘

بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھارتی سرکار کی جانب سے امریکا کے لیے ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں صفر کرنے کے فیصلے کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بھارت نے امریکا کے لیے اپنی منڈی مکمل طور پر کھولنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

’اس کا براہِ راست اثر بھارتی صنعت، تاجروں اور کسانوں پر پڑے گا۔‘

کانگریس نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر زرعی شعبہ امریکا کے لیے کھولا جا رہا ہے تو کیا بھارتی کسانوں کے مفادات اور تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے؟ اس کے ساتھ ہی یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا مودی حکومت نے ٹرمپ کی اس شرط کو تسلیم کر لیا ہے کہ بھارت اب روسی تیل نہیں خریدے گا۔

’اس کے علاوہ امریکا سے مزید اشیا خریدنے کی بات بھی ہو رہی ہے، اگر ایسا ہے تو پھر ’میک اِن انڈیا‘ کا کیا ہوا۔‘

مزید پڑھیں: نریندر مودی کے فون کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا بھارت کے ساتھ ٹریڈ ڈیل کا اعلان

کانگریس نے زور دیا کہ بھارت کو اس تجارتی معاہدے کی مکمل تفصیلات جاننے کا حق ہے اور مودی حکومت کو پارلیمنٹ اور پورے ملک کو اعتماد میں لے کر تمام حقائق سامنے رکھنے چاہییں۔

کانگریس کی کیرالا یونٹ نے بھی مختصر مگر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو ہم ایک امریکی کالونی بن جائیں گے۔

کیرالا یونٹ نے نشاندہی کی کہ امریکا بھارتی مصنوعات پر بدستور 18 فیصد ٹیرف عائد رکھے گا، جبکہ بھارت امریکی مصنوعات پر صفر فیصد ٹیرف وصول کرے گا۔

اسی بیان میں وزیر اعظم مودی کو مخاطب کرتے ہوئے ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

ایک اور پوسٹ میں کانگریس نے اس معاہدے کو بھارت کے لیے ’کمتر لمحہ‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے سر جھکا دیا ہے۔

’نریندر مودی نے اپنے دوست اور خود کو جیل سے بچانے کے لیے بھارت کی خودمختاری امریکا کے حوالے کر دی۔‘

یہ اشارہ صنعت کار اور ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی کی طرف تھا۔

کانگریس نے کہا کپ یہ ملک کے لیے سب سے ذلت آمیز لمحہ ہے، بغیر کسی مزاحمت کے مکمل ہتھیار ڈال دیے گئے۔

دوسری جانب، بھارت کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے اس تجارتی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں معیشتوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، ترقی کو فروغ ملے گا اور جدت آئے گی۔

ایکس پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ یہ ‘میک اِن انڈیا’ کی کوششوں کو مضبوط کرے گا اور قابلِ اعتماد ٹیکنالوجی شراکت داری کو فروغ دے گا۔

مزید پڑھیں: ٹیرف جنگ کے باوجود بھارت اور امریکا کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں جاری

’ہماری معاشی شراکت میں مواقع بے حد وسیع ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہم انہیں عملی جامہ پہنائیں گے، ایک مضبوط معاشی تعلق ہماری اسٹریٹجک شراکت داری کی سب سے مضبوط بنیاد ہے۔‘

ٹرمپ کے اعلان کے بعد وزیر اعظم مودی نے بھی ایکس پر ٹیرف میں کمی پر خوشی کا اظہار کیا۔ ’بھارت کے 1.4 ارب عوام کی جانب سے اس شاندار اعلان پر صدر ٹرمپ کا بہت شکریہ! میں ان کے ساتھ مل کر اپنی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا خواہاں ہوں۔‘

واضح رہے کہ مودی جنوری 2025 میں ٹرمپ کی دوسری مدت کے آغاز کے بعد وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے اولین عالمی رہنماؤں میں شامل تھے، تاہم اس کے باوجود گزشتہ ایک سال کے دوران بھارت امریکا تجارتی مذاکرات خاصے مشکل رہے۔

مزید پڑھیں: بھارت کا انفراسٹرکچر اور دفاع پر ریکارڈ بجٹ کا اعلان

گزشتہ برس یہ مذاکرات ناکام ہو گئے تھے، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے اگست میں بھارتی مصنوعات پر ٹیرف بڑھا کر 50 فیصد کر دیا، جو دنیا میں سب سے زیادہ شرح تھی، اس میں روسی تیل کی خریداری کے جواب میں 25 فیصد اضافی محصول بھی شامل تھا۔

صدر ٹرمپ نے اکتوبر میں یہ بھی کہا تھا کہ مودی نے روسی تیل کی خریداری بند کرنے کا وعدہ کیا ہے، تاہم اس وقت کوئی باضابطہ معاہدہ طے نہیں پاسکا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران نے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی، اسحاق ڈار کا انکشاف

مشرق و سطیٰ کشیدگی: آج اسلام آباد میں پاکستانی، سعودی، ترکیہ اور مصری وزرائے خارجہ کی اہم بیٹھک ہوگی

لاہور جنرل اسپتال میں کامیاب طبی کارروائی، 3 ماہ کے بچے کے معدے سے لوہے کا واشر نکال لیا گیا

خطے کی صورتحال پر چہار فریقی اجلاس،  مصری وزیر خارجہ پاکستان پہنچ گئے

’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

ویڈیو

عمران خان کی آنکھ نہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں ان کی سوچ اور نظر ہی خراب ہے، رکن خیبر پختونخوا اسمبلی سونیا شاہ

اسرائیل میں نیتن یاہو پر دباؤ، جے شنکر کی وجہ سے مودی حکومت پھر متنازع صورتحال میں مبتلا

گلگت بلتستان، جہاں پاک فوج کے منصوبے ترقی کی نئی داستان لکھ رہے ہیں

کالم / تجزیہ

مانیں نہ مانیں، پاکستان نے کرشمہ تو دکھایا ہے

ٹرمپ کے پراپرٹی ڈیلر

کیا تحریک انصاف مکتی باہنی کے راستے پر چل رہی ہے؟