پنجاب حکومت نے انسپکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر عثمان انور کو تبدیل کر کے سینیئر پولیس آفیسر راؤ عبدالکریم کو نیا آئی جی پنجاب لگا دیا گیا ہے۔
یہ تبدیلی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف سے مشاورت کے بعد منظور کی گئی، ڈاکٹر عثمان انور نے پنجاب میں 3 سال بطور آئی جی کام کیا، سرکاری ذرائع کے مطابق یہ معمول کی انتظامی تبدیلی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کچے میں آپریشن بھرپور طاقت سے جاری رہے گا، جوانوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے، آئی جی پنجاب
سینیئر صحافی گوہر بٹ کے مطابق، یہ فیصلہ براہ راست وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا ہے، جنہوں نے وزیر اعظم سے مشاورت کر کے اسے حتمی شکل دی۔ گوہر بٹ کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کے پاس مکمل اختیارات ہیں اور راؤ عبدالکریم کو ایک اچھے افسر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ آئی جی کی دوڑ میں بلال صدیق کمیانہ بھی شامل تھے، لیکن مریم نواز نے راؤ عبدالکریم کو نیا آئی جی پنجاب لگانے کی سفارش کی۔
ان کا کہنا ہے کہ نئے آئی جی پنجاب بہت اچھے آفیسر ہیں انہوں نے محکمہ پولیس کو بہتر بنانے کافی کام کیے ہیں، پنجاب حکومت کے کچھ لوگوں نے بلال صدیق کمیانہ کو نیا آئی جی پنجاب لگانے کی سفارش کی مگر مریم نواز نے راؤ عبدالکریم کو نیا آئی جی پنجاب لگانے کا فیصلہ کیا جس کے بعد آج ان کا نوٹیفیکشن بطور آئی جی جاری کر دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر عثمان انور کب آئی جی پنجاب لگائے گئے؟
ڈاکٹر عثمان انور جو ایک میڈیکل ڈاکٹر سے پولیس آفیسر بنے، پولیس سروس آف پاکستان کے 23ویں کامن سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے جنوری 2023 میں نگران حکومت کے تحت بڑی بیوروکریٹک تبدیلی کے دوران آئی جی پنجاب کا عہدہ سنبھالا۔ اس سے پہلے، وہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی ایف آئی اے) لاہور کے ڈائریکٹر اور نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔
محکمہ پولیس کے مطابق ڈاکٹر عثمان انور نے پنجاب میں جرائم کی شرح میں کمی، جدید سہولیات، اور افسران کی ویلفیئر میں بہتری جیسے بہت سے کام کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: این سی سی آئی اے کرپشن اسکینڈل، 4 افسران کے استعفے منظور
ڈاکٹر عثمان انور تقریباً 3 سال آئی جی پنجاب رہے ہیں جو پچھلے آئی جی پیز کے مقابلے میں غیر معمولی تھی، پچھلے آئی جی پیز محمد طاہر (2018) اور کیپٹن عارف نواز خان (2019) کو حکومت کی ہدایات سے مطابقت نہ رکھنے اور ناقص کارکردگی کی وجہ سے ہٹا دیے گئے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عثمان انور کو تبدیل کرنے کا فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ مریم نواز کے درمیان اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد ہوا۔ راؤ عبدالکریم، جو پہلے ایڈیشنل آئی جی کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، کو دیگر امیدواروں بشمول سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ اور ایڈیشنل آئی جی کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ وسیم سیال پر ترجیح دی گئی۔
ڈاکٹر عثمان انور کو نیا ڈی جی ایف آئی اے تعینات کرنے کا نوٹیفیکشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔













