ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ایک فراڈ کیس میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری پر باضابطہ طور پر فرد جرم عائد کر دی تاہم فواد چوہدری نے اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری کا کیس سماعت کے لیے مقرر
جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کی سربراہی میں سماعت ہوئی جس دوران عدالت نے استغاثہ کے گواہوں کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم بھی دیا۔
عدالت نے فواد چوہدری کی جانب سے دائر بریت کی درخواست پر دلائل بھی طلب کیے۔ اس موقعے پر فواد چوہدری عدالت میں موجود تھے۔
کیس کے مدعی ملک محمد ظہیر اپنے وکیل فرحان منظور کے ہمراہ سماعت کے دوران عدالت میں پیش ہوئے۔
مزید پڑھیے: فواد چوہدری کی ٹرائل رکوانے کی استدعا مسترد، سپریم کورٹ نے کیس واپس لاہور ہائیکورٹ بھیج دیا
کارروائی مکمل ہونے کے بعد عدالت نے کیس کی مزید سماعت 4 فروری تک ملتوی کر دی۔ فواد چوہدری کے خلاف مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں درج کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: فواد چوہدری کی مقدمات یکجا کرنے کی استدعا، پنجاب حکومت کا بینچ پر اعتراض
استغاثہ کا مؤقف ہے کہ اس معاملے میں فواد چوہدری پر دھوکہ دہی کے الزامات شامل ہیں جن پر اب باقاعدہ سماعت جاری ہے۔














