لاہور: پنجاب میں آلو کی ریکارڈ پیداوار کے بعد صوبہ عالمی منڈی میں آلو کی برآمد کے قابل بننے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں آلو کی پیداوار میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے اور تاریخی طور پر پنجاب میں آلو کی پیداوار 12 ملین میٹرک ٹن تک پہنچ گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت نے کسانوں کے مفاد میں موثر اقدامات کیے ہیں تاکہ پیداوار ضائع نہ ہو اور آلو کے نرخ مستحکم رہیں۔ اسی سلسلے میں وزیراعظم پاکستان سے آلو کی برآمدات کی اجازت طلب کی گئی ہے، تاکہ کسانوں کو بہتر معاوضہ فراہم کیا جا سکے اور پیداوار کو کوڑیوں میں نہ بیچا جائے۔
مزید پڑھیں: قازقستان کا پاکستان سے 50 ہزار ٹن آلو منگوانے کا ارادہ
پنجاب حکومت اور قازقستان کے درمیان زرعی تعاون کی عملی پیش رفت بھی جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ آج پاکستان میں موجود قازقستان کے اعلی سطح وفد کے ساتھ آلو کی برآمد کے لیے اہم ملاقات متوقع ہے، جس میں نئی برآمدی مارکیٹوں تک رسائی کے اقدامات حتمی شکل اختیار کریں گے۔
مریم نواز شریف نے زور دیا کہ کسانوں کو مڈل مین یا مارکیٹ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا اور صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ آلو کی پیداوار کے پھل کسانوں تک پہنچیں اور وہ خوشحالی محسوس کریں۔ انہوں نے کہا کہ آلو کی بمپر پیداوار کسانوں کے لیے پریشانی نہیں بلکہ خوشحالی کا پیغام لائے گی۔
مزید پڑھیں: آلو اور ٹماٹر یک جان دو قالب، یہ رشتہ کتنے ہزار برس پہلے بنا تھا؟
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ قازقستان کے بعد پنجاب حکومت مزید بین الاقوامی زرعی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کے اقدامات کرے گی تاکہ پاکستان کی پیداوار عالمی سطح پر بہترین قیمت پر فروخت ہو سکے۔













