ٹی20 ورلڈکپ تنازع: ناصر حسین کی آئی سی سی پر تنقید، پاکستان اور بنگلادیش کے مؤقف کی حمایت

جمعرات 5 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ناصر حسین نے کہا ہے کہ کھیل اور سیاست کا گٹھ جوڑ حالیہ برسوں میں غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے، جس کے باعث کرکٹ جو قوموں کو قریب لانے کا ذریعہ تھی، اب اختلافات کو مزید گہرا کر رہی ہے۔

اسکائی اسپورٹس کرکٹ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ناصر حسین نے کہا کہ ماضی میں سیاست کا کھیل میں شامل ہونا ایک استثنا تھا، مگر اب یہ معمول بن چکا ہے، جو نہایت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب صرف سیاستدان ہی نہیں بلکہ کھلاڑی بھی سیاسی تنازعات کا حصہ بنتے نظر آ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈکپ تنازع: بنگلہ دیش نے پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا

ناصر حسین کے مطابق حالیہ بحران کی شروعات اس وقت ہوئیں جب بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو اچانک آئی پی ایل میں کولکتہ کی ٹیم سے نکال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے نے معاملات کو مزید پیچیدہ بنا دیا اور اس کے اثرات عالمی کرکٹ تک پھیل گئے۔

سابق انگلش کپتان نے چیمپیئنز ٹرافی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میزبان پاکستان کے باوجود بھارت کو تمام میچز دبئی میں کھیلنے کی خصوصی اجازت دی گئی، جو ماضی میں دیگر ٹیموں کو حاصل نہیں تھی۔ ان کے مطابق یہی غیر مساوی رویہ بعد میں بنگلہ دیش اور پاکستان کے فیصلوں کے پس منظر میں بھی شامل ہے۔

ناصر حسین نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ اگر ایسی ہی صورتحال بھارت کو درپیش ہوتی اور وہ کسی عالمی ٹورنامنٹ سے عین قبل کسی ملک جانے سے انکار کرتا تو کیا آئی سی سی اسی سختی کا مظاہرہ کرتا؟ ان کے بقول عالمی کرکٹ میں سب کے ساتھ یکساں سلوک ناگزیر ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بنگلہ دیش اور پاکستان کو مسلسل نظرانداز کیا گیا تو ان کی کرکٹ کمزور ہوتی جائے گی، جس سے وہ تاریخی مقابلے بھی متاثر ہوں گے جنہوں نے کرکٹ کو مقبول بنایا۔

مزید پڑھیں: ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گا، وزیراعظم شہباز شریف

فرنچائز کرکٹ پر بات کرتے ہوئے ناصر حسین نے کہا کہ سیاست اب لیگز تک بھی سرایت کر چکی ہے، جہاں کھلاڑیوں کے انتخاب پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ دی ہنڈرڈ لیگ تمام کھلاڑیوں کے لیے کھلی رہے گی۔

ناصر حسین کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کا اپنے کھلاڑی کے لیے مؤقف اختیار کرنا اور پاکستان کا اس کی حمایت کرنا ایک مضبوط پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی نہ کسی مرحلے پر کرکٹ دنیا کو سیاست سے بالاتر ہو کر صرف کھیل پر توجہ دینا ہوگی۔

ان کے مطابق پاکستان کے پاس آئی سی سی یا بھارت پر دباؤ ڈالنے کا واحد مؤثر ذریعہ بھارت۔پاکستان میچ کی مالی اہمیت ہے، اور شاید یہی وہ نکتہ ہے جہاں عالمی کرکٹ کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔

ناصر حسین کے تبصرے پر بھارتی اسپورٹس رپورٹر وکرانت گپتا کا ردعمل

بھارت کے مشہور اسپورٹس رپورٹر وکرانت گپتا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ناصر حسین کے تجزیے پر ردعمل دیا کہ وہ عالمی کرکٹ کی ایک اہم آواز ہیں اور کھل کر رائے دیتے ہیں۔ لیکن انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا ان کی قیادت میں انگلینڈ نے 2003 کے ورلڈ کپ میں زمبابوے کے خلاف میچ اخلاقی بنیادوں پر نہیں چھوڑا تھا؟ وکرانت نے کہا کہ دنیا کا نقطۂ نظر اکثر مثالی ہوتا ہے، مگر اصل چیلنج ان لوگوں کو درپیش ہوتا ہے جو اہم فیصلے کرتے ہیں، کیونکہ اب دنیا مثالی نہیں رہی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں فیکٹری میں آتشزدگی

زیتون کا تیل اور ہڈیوں کا سوپ: کیا سوشل میڈیا پر وائرل غذائیں واقعی مؤثر ہیں؟

اسلام آباد مسجد حملہ، بھارت کا اظہارِ افسوس

مکہ مکرمہ میں شہری ترقی کے حالیہ اقدامات نے معیار زندگی مزید بہتر بنادیا

اسلام آباد سانحہ، پی ٹی آئی کا وفاقی حکومت کی ناکامیوں پر استعفوں اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

ویڈیو

اسلام آباد امام بار گاہ میں خود کش دھماکا بھارت کی سرپرستی میں کیا گیا، وزیر مملکت برائے داخلہ کی میڈیا سے گفتگو

امریکا ایران کشیدگی: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے واشنگٹن کو کیا پیغام دیا؟

لاہور میں بسنت کے تہوار پر تاریخی جشن

کالم / تجزیہ

پاکستان کا پیچا!

’کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو‘

مغربی تہذیب کا انہدام!