بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر منعقدہ تقریب میں مقررین نے کہا ہے کہ مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اجاگر، معرکۂ حق میں بھارت کا غرور خاک میں مل گیا، وزیراعظم شہباز شریف
ڈھاکہ میں پاکستان ہائی کمیشن میں یومِ یکجہتی کشمیر کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستانی کمیونٹی، بنگلہ دیشی طلبہ، انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلا، صحافیوں اور ماہرینِ تعلیم نے شرکت کی۔

تقریب میں صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے، جن میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر پر بھارت کا غیر قانونی قبضہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا اقوامِ متحدہ سے بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ، سلامتی کونسل سے فوری اقدام کی اپیل
مقررین نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو باقاعدہ پالیسی بنا لیا ہے، جبکہ 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات سے کشمیریوں کے قانونی حقوق اور مقامی ادارے کمزور ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔

بنگلہ دیشی طلبہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے کشمیری عوام کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر مسئلے کے حل کے بغیر خطے میں دیرپا امن ممکن نہیں۔ مقررین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزاد اور منصفانہ رائے شماری کرائی جائے۔
تقریب کے اختتام پر پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر نے شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر مقبوضہ کشمیر میں مبینہ بھارتی مظالم پر مبنی تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔














