پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ نے نہ صرف سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھائی ہے بلکہ کئی صارفین نے اب سونے کے بجائے چاندی میں سرمایہ کاری کرنے کا رجحان اپنایا ہے۔ ملکی مارکیٹ میں دس گرام سونے کی قیمت میں گزشتہ دنوں میں 20,000 روپے سے زائد کا اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ چاندی کی قیمت بھی قابل ذکر حد تک بڑھی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر سونے اور چاندی کے بازار میں اتار چڑھاؤ اور خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان سیاسی کشیدگی اس رجحان کی بنیادی وجہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی کمی، مقامی و عالمی مارکیٹ میں مندی کا رجحان
لاہور کے معروف جواہرات فروش وقاص صدیقی نے الجزیرہ کو بتایا کہ گزشتہ 2 ہفتوں میں ان کی دکان پر صارفین کی کالز میں زبردست اضافہ ہوا ہے، اور اب زیادہ تر لوگ چاندی خریدنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ ہماری بنیادی سرگرمی جواہرات فروشی ہے، جو اب سرمایہ کاری کی وجہ سے کمزور پڑ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس رجحان کی تصدیق لاہور کے سینیئر جواہرات فروش عمر احسان نے بھی کی، جنہوں نے بتایا کہ سونے کے مقابلے میں چاندی میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔

کاروباری ماہر حنیف چند کے مطابق اس اتار چڑھاؤ کی ایک بڑی وجہ امریکہ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کے خدشات ہیں، جس نے بازار میں ہلچل پیدا کی۔ جب خبر آئی کہ امریکی صدر ٹرمپ فیصلہ کرنے میں مزید وقت لے رہے ہیں، تو مارکیٹ نے تھوڑا سکون پایا، لیکن کسی بھی وقت قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:چاندی کی قیمت تاریخی بلند ترین سطح پر، اضافے کی وجہ کیا ہے؟
انہوں نے الجزیرہ کو بتایا۔ اس کے علاوہ علی آفتاب سعید، ایک آزاد سرمایہ کاری تجزیہ کار نے بتایا کہ چین میں سونے کی خریداری میں اضافہ بھی قیمتوں کو اوپر لے جا رہا ہے، کیونکہ چین نے امریکی خزانہ جاتی سیکیورٹیز کی بڑی مقدار فروخت کر کے سونا خریدا۔

اسلام آباد کے جواہرات فروش رزاق احمد نے کہا کہ سونے کی بلند قیمتوں کی وجہ سے اب عام صارفین کے لیے چاندی سرمایہ کاری کا پہلا انتخاب بن گئی ہے۔ چھوٹے سرمایہ کار اب چاندی کی سلاخیں یا جواہرات خریدتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کم سرمایہ بھی ہے، اور قیمتوں میں اضافہ ان کے لیے فائدہ مند ہے۔
انہوں نے کہا۔ تاریخی طور پر پاکستان میں خاندان سونا خرید کر سرمایہ کاری اور شادی بیاہ میں وراثت کے طور پر رکھتے تھے، لیکن اب یہ رواج کم ہوتا جا رہا ہے۔

مجموعی طور پر سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عالمی مارکیٹ، سیاسی کشیدگی اور بڑے سرمایہ کاروں کے اقدامات پر منحصر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں قیمتیں امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر ژی جن پنگ کے ملاقات کے فیصلوں پر بھی منحصر ہوں گی۔













