بنگلہ دیش کے مشیر خارجہ محمد توحید حسین نے کہا ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات دونوں ممالک کے مختلف قومی مفادات کی وجہ سے رک گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بات وزارت خارجہ میں آخری باضابطہ میڈیا بریفنگ کے دوران کہی اور امید ظاہر کی کہ آئندہ منتخب حکومت تعلقات کو بہتر بنا سکے گی۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: شیخ حسینہ واجد نے سیاست سے توبہ کرلی، ’عوامی لیگ قائم رہے گی‘، بیٹے کا اعلان
محمد توحید حسین نے کہا کہ عبوری حکومت نے بھارت کے ساتھ تعمیری تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی، لیکن دورانیے میں تعلقات ہموار نہیں رہے۔ انہوں نے بتایا کہ کوئی بڑا بحران پیدا نہیں ہوا، لیکن تعلقات میں ٹھہراؤ آ گیا ہے کیونکہ دونوں ممالک اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں جو اکثر ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔
حسینہ واجد معاملہ اور بھارت کا مؤقف
سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے بھارت میں قیام کے حوالے سے توحید حسین نے کہا کہ بنگلہ دیش کو امید رکھنی چاہیے کہ ڈپلومیٹک حل نکلے گا۔ بنگلہ دیش نے ان کی واپسی کے لیے بھارت سے باضابطہ درخواست کی، لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔

آئندہ انتخابات میں عوامی لیگ کی شرکت کے حوالے سے سوال پر توحید حسین نے کہا کہ کسی بھی غیر ملکی سفارت کار نے دباؤ ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ انتخابات ایک ہفتے کے اندر ہوں گے اور نتیجہ عوامی رائے کی عکاسی کرے گا۔
بین الاقوامی معاہدے آئندہ حکومت کے لیے بوجھ نہیں
توحید حسین نے کہا کہ عبوری حکومت نے حالیہ بین الاقوامی معاہدوں کے سلسلے میں آئندہ حکومت کی ذمہ داری آسان بنائی ہے۔ انہوں نے امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کا حوالہ دیا، جن میں کسٹمز کی شرح 37 فیصد سے 20 فیصد تک کم کی گئی۔ دفاعی تعاون کے معاملے میں جاپان کے ساتھ معاملات بھی عبوری حکومت نے آگے بڑھائے۔
یہ بھی پڑھیں:وائٹ پیپر جاری: حسینہ واجد دور میں ٹیلی کام بدانتظامی اور بدعنوانی بے نقاب
ویزا حاصل کرنے میں بنگلہ دیشیوں کو مشکلات کا سامنا کرنے کے حوالے سے مشیر خارجہ نے کہا کہ یہ مکمل طور پر ملکی نظام کی ناکامی ہے۔ دستاویزات میں فراڈ کی وجہ سے بین الاقوامی اعتماد متاثر ہوا ہے اور اگر نظامی مسائل حل نہ کیے گئے تو مستقبل میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔














