پچھلے 25 برسوں میں بسنت کا سب سے نمایاں فرق یہ ہے کہ جو تہوار کبھی ایک آزاد اور بے فکر ثقافتی میلہ ہوا کرتا تھا، آج وہ سخت پابندیوں کی زد میں آ چکا ہے۔ ماضی میں بسنت کھلے دل سے منائی جاتی تھی، مگر اب حکومت کی جانب سے اسے مخصوص قوانین کے تحت محدود اجازت دی گئی ہے، جن میں خاص طور پر خطرناک مانجھے پر مکمل پابندی شامل ہے۔
پرانے زمانے کی بسنت میں شرارتی اور جان لیوا خصوصاً ’چائنا مانجھا‘ عام طور پر استعمال ہوتا تھا، جس کے نتیجے میں گلے کٹنے اور دیگر افسوسناک حادثات پیش آتے تھے۔ انہی خطرات واقعات کے باعث بسنت پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ تاہم اب محدود پیمانے پر جو بسنت منائی جا رہی ہے، اس میں حفاظت کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کے باوجود لوگ آج بھی پرانی بسنت کی رنگینی، جوش اور دھوم دھام کو شدت سے یاد کرتے ہیں۔
25 سال پہلے بسنت ایک مکمل آزاد تہوار تھی، جہاں لوگ چھتوں پر جمع ہو کر بلا روک ٹوک پتنگ بازی سے لطف اندوز ہوتے تھے، اور کسی قسم کی سرکاری پابندی موجود نہیں تھی۔













