اقوامِ متحدہ کے مطابق جنوری 2026 میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد اور ہراسانی کے باعث مقبوضہ مغربی کنارے میں کم از کم 694 فلسطینی اپنے گھروں سے زبردستی بے دخل ہوئے، جو اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی امدادی ادارے اوچا (OCHA) کے مطابق یہ اعداد و شمار مختلف اقوامِ متحدہ کے اداروں سے حاصل کیے گئے ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں جبری نقل مکانی کی سب سے بڑی وجہ اب آبادکاروں کا تشدد بن چکی ہے۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (OHCHR) نے جنوری کے آخر میں جاری بیان میں کہا تھا کہ آبادکاروں کی جانب سے تشدد، دھمکیوں اور مسلسل ہراسانی کے نتیجے میں فلسطینی آبادیوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
جنوری میں بے دخلی کی شرح میں نمایاں اضافہ اردن ویلی کی ایک مکمل چرواہا برادری راس عین العوجہ کی نقل مکانی کے باعث ہوا، جہاں 130 خاندان مہینوں تک جاری حملوں اور دباؤ کے بعد علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
ایک مقامی بدوی باشندے فرحان جاہلین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مسلسل 2 سال سے دن رات حملوں کے نتیجے میں ہماری پوری برادری ٹوٹ چکی ہے۔
اسرائیلی تنظیم Peace Now کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق آبادکار چراگاہوں کے قیام کے ذریعے فلسطینی زرعی زمینوں پر اپنا تسلط بڑھاتے ہیں اور تشدد و دھمکیوں کے ذریعے مقامی آبادی کو ان علاقوں تک رسائی سے محروم کر دیتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں اسرائیلی حکومت اور فوج کی پشت پناہی میں ہو رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: غزہ پر اسرائیلی حملے: 37 فلسطینی شہید، حماس نے شدید نتائج کی وارننگ دے دی
مزید برآں، اوچا کے مطابق جنوری میں اسرائیلی فوج کی جانب سے بغیر اجازت تعمیرات کے نام پر گھروں کی مسماری سے 182 مزید فلسطینی بے گھر ہوئے۔
مشرقی یروشلم کو چھوڑ کر مغربی کنارے میں 50 لاکھ سے زائد اسرائیلی آبادکار ایسے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جنہیں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے، جبکہ اس خطے میں قریباً 3 ملین فلسطینی آباد ہیں۔














