قطر کا نیا 10 سالہ اقامہ کن افراد کے لیے ہے اور اس کے کیا کیا فوائد ہیں؟

جمعہ 6 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قطر نے کاروباری افراد اور اعلیٰ عہدوں پر فائز سینیئر ایگزیکٹوز کے لیے 10 سالہ طویل المدتی اقامہ پروگرام متعارف کرانے کی تیاری کرلی ہے۔ اس پروگرام کا اعلان ویب سمٹ قطر 2026 میں کیا گیا، جسے غیر ملکی ماہرین کے لیے ایک بڑی پالیسی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

کن افراد کو اہل سمجھا جائے گا؟

یہ ویزا صرف 2 مخصوص کیٹیگریز تک محدود ہوگا:

کاروباری افراد اور اسٹارٹ اپ بانی
ایسے افراد جو جدت پر مبنی یا اعلیٰ اثر رکھنے والا کاروبار شروع کر رہے ہوں اور جو قطر کے نجی شعبے کی ترجیحات سے ہم آہنگ ہو۔ درخواست دہندگان کو قطر کے کسی منظور شدہ بزنس انکیوبیٹر، جیسے قطر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (QSTP) سے توثیق حاصل کرنا ہوگی۔

مزید پڑھیں: ایرانی حملے کا خدشہ، امریکا اور برطانیہ نے قطر سے فوجی دستے واپس بلانا شروع کر دیے

اس کے علاوہ، مالی حیثیت ثابت کرنے کے لیے گزشتہ 3 ماہ میں کم از کم 36,500 قطری ریال بینک بیلنس دکھانا لازمی ہوگا۔

سینئر ایگزیکٹوز

یہ سہولت چیئرمین، سی ای او، سی ایف او، سی او او، سی ٹی او اور ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے لیے ہوگی۔ درخواست دہندہ کے پاس کم از کم 5 سال کا سینئر مینجمنٹ تجربہ ہونا ضروری ہے۔

مقامی ملازمت کا معاہدہ لازمی ہوگا اور صرف مخصوص اداروں، جیسے قطر اسٹاک ایکسچینج میں درج کمپنیاں، مرکزی بینک کے تحت رجسٹرڈ بینک، انشورنس اور سرکاری اداروں کو خدمات دینے والی کنسلٹنگ فرمز، اہل ہوں گی۔

تنخواہ کی شرط بھی سخت رکھی گئی ہے۔ چیئرمین اور سی لیول عہدوں کے لیے کم از کم 50,000 قطری ریال ماہانہ جبکہ دیگر ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے لیے 80,000 قطری ریال ماہانہ آمدن ضروری ہوگی۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور قطر کے وزرائے خارجہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور عالمی و علاقائی امور پر اہم بات چیت

درخواست کیسے دی جا سکے گی؟

فی الحال یہ پروگرام تیاری کے مرحلے میں ہے اور حتمی لانچ تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم، معلومات Invest Qatar کے ذریعے جاری کر دی گئی ہیں۔ درخواست کے عمل میں آن لائن فارم، پیشہ ورانہ دستاویزات، مالی ریکارڈ، طبی معائنہ اور سکیورٹی کلیئرنس شامل ہوں گے۔ متوقع طور پر عمل مکمل ہونے میں 4 سے 8 ہفتے لگ سکتے ہیں۔

کیا یو اے ای میں رہنے والوں کو فائدہ ہوگا؟

ماہرین کے مطابق یہ ویزا یو اے ای ویزا کا متبادل نہیں بلکہ اضافی موقع ہے۔ یو اے ای میں مقیم کاروباری افراد اس اقامے کے ذریعے قطر میں دوسرا بزنس بیس قائم کر سکتے ہیں، جبکہ خطے میں کام کرنے والے سینئر ایگزیکٹوز کو پروجیکٹ بیسڈ ویزوں پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ پروگرام قطر کی اس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت ملک طویل المدتی غیر ملکی رہائش کو فروغ دے رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں فیکٹری میں آتشزدگی

زیتون کا تیل اور ہڈیوں کا سوپ: کیا سوشل میڈیا پر وائرل غذائیں واقعی مؤثر ہیں؟

اسلام آباد مسجد حملہ، بھارت کا اظہارِ افسوس

مکہ مکرمہ میں شہری ترقی کے حالیہ اقدامات نے معیار زندگی مزید بہتر بنادیا

اسلام آباد سانحہ، پی ٹی آئی کا وفاقی حکومت کی ناکامیوں پر استعفوں اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

ویڈیو

اسلام آباد امام بار گاہ میں خود کش دھماکا بھارت کی سرپرستی میں کیا گیا، وزیر مملکت برائے داخلہ کی میڈیا سے گفتگو

امریکا ایران کشیدگی: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے واشنگٹن کو کیا پیغام دیا؟

لاہور میں بسنت کے تہوار پر تاریخی جشن

کالم / تجزیہ

پاکستان کا پیچا!

’کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو‘

مغربی تہذیب کا انہدام!