انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے درمیان بیک چینل رابطے جاری ہیں، کیونکہ آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اہم گروپ میچ کے انعقاد کا کوئی حل نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پاکستانی حکومت کی ہدایات پر پاکستان 15 فروری کو کولمبو میں بھارت کے خلاف میدان میں نہیں اترے گا، تاہم وہ اپنے دیگر میچز کھیلے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈکپ تنازع: ناصر حسین کی آئی سی سی پر تنقید، پاکستان اور بنگلادیش کے مؤقف کی حمایت
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ فیصلہ بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے کیا گیا ہے، جسے ٹی20 ورلڈ کپ سے اس بنیاد پر باہر کر دیا گیا کہ وہ بھارت میں کھیلنے پر آمادہ نہیں تھا۔
بھارت اس ایونٹ کا سری لنکا کے ساتھ مشترکہ میزبان ہے۔
Don't forget, there will be no #PakvsIndia match on February 15th, remember. @vikrantgupta73 @SushantNMehta @bhogleharsha @NikhilNaz @YaariSports @StarSportsIndia @IrfanPathan @JayShah @jatinsapru @ashwinravi99 @mufaddal_vohra @harbhajan_singh #INDvPAK #INDvsPAK #PakvsIndia pic.twitter.com/2CXdWvsobb
— Talha GCN (@Talha_GCN) February 6, 2026
پی سی بی نے بھارت کے خلاف گروپ میچ کے بائیکاٹ پر باضابطہ طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
تاہم حکومتِ پاکستان کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ کے ذریعے سامنے آنیوالے فیصلے پر آئی سی سی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسے توقع ہے پی سی بی ’تمام اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے باہمی طور پر قابلِ قبول حل تلاش کرے گا۔‘
اسی حل کے لیے آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ اور امارات کرکٹ بورڈ کے سربراہ مبشر عثمانی کے درمیان، جو آئی سی سی بورڈ کے رکن بھی ہیں، متعدد فون کالز اور ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ سے قبل پاکستانی کرکٹرز کی رینکنگ میں نمایاں بہتری، صائم ایوب پہلی پوزیشن پر پہنچ گئے
ان رابطوں میں پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی اور سلمان نصیر بھی شامل ہیں، جو پی ایس ایل کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ محسن نقوی کے سینیئر مشیر بھی ہیں۔
یہ کوششیں بائیکاٹ کے اعلان سے ایک ہفتہ قبل شروع ہو چکی تھیں، جب محسن نقوی نے پہلی بار پاکستان کی ورلڈ کپ میں شرکت پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ حتمی فیصلہ حکومت کرے گی۔
اسی دوران وہ ایک سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات گئے، جہاں انہوں نے کرکٹ حکام سے مشاورت کے علاوہ عمران خواجہ سے ملاقات بھی کی۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈکپ تنازع: بنگلہ دیش نے پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا
بعد ازاں، عمران خواجہ کی سنگاپور واپسی اور محسن نقوی کے پاکستان میں ہونے کے باوجود رابطے جاری رہے۔
ابتدا میں پی سی بی کو اس بات سے آگاہ کیا گیا تھا کہ اگر پاکستان مکمل طور پر ٹورنامنٹ سے دستبردار ہوتا ہے تو اسے ممکنہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تاہم پی سی بی کا مؤقف تھا کہ معاملہ مالی نقصانات کا نہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا ٹی20 ورلڈ کپ میں انڈیا سے کھیلنے سے انکار، ’انڈیا سوائے ماتم کے کچھ نہیں کرسکتا‘
بنگلہ دیش کو ایونٹ سے باہر کیے جانے کے بعد محسن نقوی نے آئی سی سی پر ’دوہرا معیار‘ اپنانے اور بنگلہ دیش کے ساتھ ’ناانصافی‘ برتنے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔
تاہم بائیکاٹ کے اعلان کے بعد آئی سی سی کی جانب سے رابطوں کا محور پی سی بی کے تحفظات دور کرنا ہے تاکہ میچ کا انعقاد ممکن بنایا جا سکے۔
عمران خواجہ حالیہ عرصے میں پی سی بی، بی سی سی آئی اور آئی سی سی کے درمیان دیگر تنازعات میں بھی ثالث کا کردار ادا کر چکے ہیں۔













